تحفۂ غزنویہ — Page 547
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۷ تحفه غزنویه تم نے جھوٹا سمجھا تو پھر تم نا خلف شاگرد ہو۔ غرض یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ مباہلہ ہوتے ہی اُسی میدان میں اُسی گھڑی اُسی ساعت خدا نے تمہیں تمہارے ہی اُستاد کی گواہی سے تمہاری ہی جماعت کے آدمی کے ذریعہ سے ذلیل اور رسوا کر دیا اور نا مرادی ظاہر کر دی۔ پھر مباہلہ کے بعد ایک اور نشان میری عزت کا پیدا ہوا جس کے لاکھوں انسان گواہ ہیں اور وہ یہ کہ ہمارے سلسلہ کے لئے مجھے وہ فتوحات مالی ہوئیں کہ اگر میں ۱۷ چاہتا تو اُن سے ایک غزنی کا بڑا حصہ خرید سکتا۔ چنانچہ اس پر سرکاری ڈاک خانجات کے وہ رجسٹر گواہ ہیں جن میں منی آرڈر درج ہوا کرتے ہیں ۔ مگر کیا تمہیں اس کے بعد کوئی ۲ کا منی آرڈر بھی آیا اگر آیا تو اس کا ثبوت دو ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ہزا رہا روپیہ جو مباہلہ کے بعد مجھے بھیجا گیا جو میں ہزار روپیہ سے کم نہ تھا کیا اس بات پر دلیل نہیں ہے جو مسلمان لوگوں نے مجھے عزت اور بزرگی کی نظر سے دیکھا اور مجھے عزیز رکھ کر میرے پر اپنے مال فدا کئے ۔ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس سے انکار کرنا آفتاب پر تھوکنا ہے۔ پھر مباہلہ کی تاثیر کا نشان یہ ہے کہ یہ تمیں ہزار آدمی کی جماعت جواب میرے ساتھ ہے یہ مباہلہ کے بعد ہی مجھ کو ملی ۔ آتھم کا وفات پا کر ہمیشہ کے لئے اسلامی مخالفت کو ختم کر کے دنیا سے رخصت ہو جانا مباہلہ کے بعد ہی پیشگوئی کے موافق ظہور میں آیا ۔ پیشگوئی کا یہ منشاء تھا کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا مذہب رکھتا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم نے مجھ سے پہلے وفات پا کر میری سچائی پر مہر لگا دی ۔ پھر بعد اس کے لیکھرام کے قتل کا وہ نشان ظاہر ہوا جس پر تخمینا تین ہزار مسلمان اور ہندوؤں نے ایک محضر نامہ پر جو ہماری طرف سے طیار ہوا تھا یہ گواہی اپنی قلم سے ثبت کر دی کہ یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے ظہور میں آئی ۔ اسی محضر نامہ پر سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر کے دستخط ہیں جو مخالف جماعت میں سے ہو کر تصدیق کرتا ہے۔