تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 546 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 546

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۶ تحفه غزنویه اور بھی تم نے اپنی رسوائی اور پردہ دری کرائی۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ لوگوں کا حیا کہاں گیا اور تقویٰ اور راست گوئی سے اس قدر کیوں دشمنی ہو گئی ۔ سوچ کر دیکھ لو کہ جس قدر تم پر اور تمہاری جماعت پر ادبار ہے وہ مباہلہ کے دن کے بعد ہی شروع ہوا ہے ۔ یہ تو میری سچائی کا ایک بڑا نشان تھا جس سے آپ نے اپنی بدقسمتی سے ذرہ فائدہ نہیں اُٹھایا۔ نہ معلوم آپ لوگ کس غار کے اندر بیٹھے ہو کہ زمانہ کے حالات کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ ہزارہا (1) لوگ بول اُٹھے ہیں اور بے شمار روحیں محسوس کر گئی ہیں کہ ہمارے اقبال اور ترقی اور تمہارے ادبار اور تنزل کا دن مباہلہ کا دن ہی تھا۔ ایک ادنیٰ مثال دیکھ لو کہ مباہلہ کے دن بلکہ اسی وقت علی رؤس الاشہار جبکہ مباہلہ ختم ہی ہوا تھا اور ابھی تم اور ہم دونوں اُسی میدان میں موجود تھے اور تمام مجمع موجود تھا خدا تعالیٰ نے میری عزت اُس مجمع پر ظاہر کرنے کے لئے ایک فوری ذلت اور فوری رسوائی تمہارے نصیب کی یعنی فی الفور ایک گواہ تمہاری جماعت میں سے کھڑا کر دیا وہ کون تھا منشی محمد یعقوب جو حافظ محمد یوسف کا بھائی ہے۔ اُس نے قسم کھائی اور رو رو کر مجھے مخاطب کر کے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچے ہو کیونکہ میں نے مولوی عبد اللہ غزنوی سے سنا ہے کہ ایک خواب کی تعبیر کے موقع پر انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور کہا کہ ایک نور آسمان سے اُترا ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔ اب دیکھو کہ تم ابھی مباہلہ کے مکان سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے کہ خدا نے تمہیں ذلیل کر دیا اور جس شخص کی استادی کا تم فخر کرتے ہواُسی نے گواہی دے دی کہ تم جھوٹے اور غلام احمد قادیانی سچا ہے۔ اب اس سے زیادہ مباہلہ کا فوری اثر کیا ہوگا کہ میرے لئے خدا کا اکرام و اعزاز اُسی وقت ظاہر ہو گیا اور اُسی وقت میری سچائی کی گواہی مل گئی اور گواہی بھی تمہارے اُس اُستاد کی یعنی عبداللہ غزنوی کی کہ اگر اُس کی بات نہ مانو تو عاق کہلاؤ کیونکہ تمہارا سارا شرف اُسی کے طفیل ہے اگر اُس کو