تحفۂ غزنویہ — Page 548
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۸ تحفه غزنویه یہ یقینی امر ہے کہ تمہیں ہزار کے قریب لوگ اس پیشگوئی کو دیکھ کر ایمان لائے۔ ورنہ ہماری جماعت مباہلہ سے پہلے تین سو سے زیادہ نہ تھی۔ پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے نشانوں کی اس قدر بارش ہوئی کہ سو سے زیادہ نشان ظہور میں آیا جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ بڑے بڑے ۱۸ امراء اور تاجر اس جماعت میں داخل ہوئے اور ایک دنیا ارادت اور اعتقاد کے ساتھ میری طرف دوڑی اور ایک عظیم الشان قبولیت زمین پر پھیل گئی ۔ کیا اس میں تمہاری ذلت نہ تھی۔ انسان دور بیٹھا ہوا اندھے کے حکم میں ہوتا ہے اگر ایک دو ہفتہ قادیاں میں آکر دیکھو کہ کیونکر ہزارہا کوس سے ہر طرف سے لوگ آرہے ہیں اور کیونکر ہزار ہا روپیہ میرے قدموں پر ڈال رہے ہیں اور کیونکر ہر ایک ملک سے قیمتی تحفے اور سوغاتیں اور پھل چلے آتے ہیں اور کیونکر صدہا لوگوں کے لئے ایک وسیع لنگر خانہ طیار ہے اور کیونکر ہماری جامع مسجد میں صد ہا آدمی جو بیعت میں داخل ہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور کیونکر بے شمار زیارت کرنے والے قدموں پر گرے جاتے ہیں تو غالباً یہ نظارہ آپ کے لئے باعث شدت غم ناگہانی موت کا موجب ہوگا۔ اب ذرہ انصاف سے سوچو کہ مباہلہ کے بعد کون رسوا اور ذلیل ہوا اور کس نے عزت پائی۔ اگر تمہیں خبر ہوتی کہ مباہلہ کے پہلے میری جماعت کیا تھی اور قبولیت کس قدر تھی اور پھر مباہلہ کے بعد کس قدر قبولیت زمین پر پھیل گئی اور کس قدر فوج در فوج لوگ اِس مبارک سلسلہ میں داخل ہوئے تو یقین تھا کہ تم مدت غم سے مدقوق یا مسلول ہو کر مدت سے مر بھی جاتے ۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے اور اس قسم کو بیچ نہ سمجھنا بھی لعنتی کا کام کہ میری عزت اور قبولیت مباہلہ سے پہلے ایک قطرہ کے موافق تھی اور اب مباہلہ کے بعد ایک دریا کی مانند ہے۔ غرض ہر ایک پہلو سے خدا نے میری مدد کی یہاں تک کہ میں نے خدا تعالیٰ