تذکرة الشہادتین — Page 18
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸ تذكرة الشهادتين کرنے کے لائق تھا۔ پس قرآن شریف نے کہاں اس اعتراض کو دفع کیا ہے یعنی اس تمام نزاع کی بنیاد یہ تھی کہ یہودی کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا ہے اور جو شخص مصلوب ہو اُس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا اس لئے عیسی کا اور نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رفع روحانی نہیں ہوا لہذا وہ مومن نہیں ہے اور نہ نجات یافتہ ہے اور چونکہ قرآن اس بات کا ذمہ وار ہے کہ پہلے جھگڑوں کا تصفیہ فرمادے لہذا اُس نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عیسی کا بھی دوسرے نبیوں کی طرح رفع ہوا ہے۔ خدا نے تو ایک جھگڑے کا فیصلہ کرنا تھا۔ پس اگر خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ فیصلہ نہیں کیا تو پھر بتلاؤ کہ کس مقام میں یہ فیصلہ کیا۔ کیا نعوذ باللہ اس طرح کی بد نہی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو سکتی ہے کہ جھگڑا تو یہود کی طرف سے روحانی رفع کا تھا اور خدا یہ کہے کہ عینی مع جسم دوسرے آسمان پر بیٹھا ہے۔ ظاہر ہے کہ نجات کے لئے مع جسم آسمان پر جانا شرط نہیں صرف روحانی رفع شرط ہے۔ پس اس جگہ اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے یہ بیان کرنا تھا کہ نعوذ باللہ عیسی لعنتی نہیں ہے بلکہ ضر ور رفع روحانی اس کو نصیب ہوا ہے۔ ماسوا اس کے قرآن شریف میں جو رفع کے پہلے توکی کا لفظ لایا گیا ہے یہ صریح اس بات پر قرینہ ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو ہر ایک مومن کو موت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ اور توفی کے یہ معنی کرنا کہ زندہ آسمان پر حضرت عیسی اٹھائے گئے یہ بھی یہودیوں کی طرح قرآن شریف (۱۲) کی تحریف ہے۔ قرآن شریف اور تمام حدیثوں میں توفی کا لفظ قبض روح کے بارہ میں استعمال پاتا ہے کسی مقام میں ان معنوں پر استعمال نہیں ہوا کہ کوئی شخص مع جسم زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔ ماسوا اس کے ان معنوں سے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قرآن شریف میں عیسی کی موت کا کہیں ذکر نہیں اور اس نے کبھی مرنا ہی نہیں کیونکہ جس جگہ اور جس مقام میں حضرت عیسی کی نسبت توفی کا لفظ ہوگا وہاں یہی معنی کرنے پڑیں گے کہ مع جسم آسمان پر چلا گیا یا جائے گا۔ پھر موت اس کی کس طرح ثابت ہوگی۔ علاوہ اس کے اگر دنیا میں دوبارہ انسان آسکتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو یہودیوں کے سامنے شرمندہ کیوں کیا کیونکہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نے دعوی مسیحیت کیا تو یہودیوں نے یہ حجت پیش کی تھی کہ تجھے ہم سچا مسیح نہیں مان سکتے کیونکہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ سچا مسیح