تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 17

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷ تذكرة الشهادتين بلکہ پاک تعلیم اور آسمانی نشانوں کے ساتھ دین کو پھیلائے گا اور اس آخری مسیح کی تکذیب کے بعد بھی دنیا میں طاعون پھیلے گی اور وہ سب باتیں پوری ہوں گی جو ابتدا سے سب نبی کہتے چلے آئے ہیں۔ اور یہ وسوسہ کہ آخری زمانہ میں وہی مسیح ابن مریم دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر بر خلاف ہے جو شخص قرآن شریف کو ایک تقویٰ اور ایمان اور انصاف اور تدبر کی نظر سے دیکھے گا اُس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ خداوند قادر کریم نے اس اُمت محمدیہ کو موسوی امت کے بالکل بالمتقابل پیدا کیا ہے۔ ان کی اچھی باتوں کے بالمقابل پر اچھی باتیں دی ہیں اور اُن کی بُری باتوں کے مقابل پر بُری باتیں۔ اس اُمت میں بعض ایسے ہیں جو انبیاء بنی اسرائیل سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو مغضوب علیھم یہود سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گھر ہے جس میں عمدہ عمدہ آراستہ کمرے موجود ہیں جو عالیشان اور مہذب لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہیں اور جس کے بعض حصے میں پائخانے بھی ہیں اور بدر رو بھی اور گھر کے مالک نے چاہا کہ اس محل کے مقابل پر ایک اور محل بناوے کہ تا جو جو سامان اس پہلے محل میں تھا اس میں بھی موجود ہو ۔ سو یہ دوسرا حل اسلام کا محل ہے اور پہلا محل موسوی سلسلہ کا محل تھا۔ یہ دوسرا حل پہلے محل کا کسی بات میں محتاج نہیں۔ قرآن شریف توریت کا محتاج نہیں اور یہ امت کسی اسرائیلی نبی کی محتاج نہیں۔ ہر ایک کامل جو اس اُمت کے لئے آتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے پرورش یافتہ ہے اور اس کی وحی محمدی وحی کی حل ہے۔ یہی ایک نکتہ ہے جو سمجھنے کے لائق ہے۔ افسوس ہمارے مخالف حضرت عیسی کو دوبارہ لاتے ہیں نہیں سمجھتے کہ ایک مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کو فخر مشابہت حاصل ہو نہ یہ ذلت کہ کوئی اسرائیلی نبی آوے تا اُمت اصلاح پاوے۔ علاوہ اس کے یہ نہایت بیہودہ خیال ہے کہ ایسے لغو اعتقاد پر زور دیا جاوے جس کی خدا کی کتاب میں کوئی نظیر نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی گئی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے مگر وہ یہ کہہ کرنا منظور کی گئی کہ قُل سُبحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلاً تو کیا عیسی بشر نہ تھا کہ اس کو بغیر درخواست کے آسمان پر چڑھایا گیا۔ پھر قرآن شریف سے تو صرف رفع الی الله ثابت ہے جو ایک روحانی امر ہے نہ رفع الی السماء اور یہودیوں کا اعتراض تو یہ تھا کہ جو شخص لکڑی پر لڑکا یا جاوے اُس کا رفع روحانی دوسرے نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور یہی اعتراض دفع ا بنی اسراءیل ۹۴