تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 597

تذکرة الشہادتین — Page xxiv

جن میں سب سے پہلے وہ علامات ذکر فرمائی ہیں جو قرآن کریم اور احادیث میں مسیح موعود کے ظہور کے لئے مقدّر تھیں اور پھر اپنے الہامات اور پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا ہے جو انتہائی مخالف حالات میں دنیا کے سامنے پیش کی گئیں اور آج وہ سب پوری ہو گئی ہیں۔اس تقریر کے آخر میں حضورؑ لکھتے ہیں:۔’’ہم جنابِ الٰہی میں دُعا کرتے ہیں کہ اس تقریر کو بہتوں کے لئے موجب ہدایت کرے۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ ۲۴۶) ۵۔لیکچر لدھیانہ یہ لیکچر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء کو لدھیانہ میں دیا۔یہ لدھیانہ وہی شہر ہے جہاں سب سے پہلے حضورؑ کے خلاف فتوٰئے کفر جاری کیا گیا تھا۔حضور علیہ السلام نے اِس امر کو اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا ہے کہ علماء نے مل کر اس سِلسلہ کو مٹانے کی کوششیں کیں مگر ان کی کوششوں کا نتیجہ اُلٹ نکلا اور اﷲ تعالیٰ کے الہامات کے مطابق اﷲ تعالیٰ کی تائید و نصرت سِلسلہ کے ساتھ ہی رہی۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’میں اس شہر میں چود۱۴ہ برس کے بعد آیا ہوں اور مَیں ایسے وقت اِس شہر سے گیا تھا جبکہ میرے ساتھ چند آدمی تھے اور تکفیر تکذیب اور دجّال کہنے کا بازار گرم تھا۔۔۔۔۔۔اِن لوگوں کے خیال میں تھا کہ تھوڑے ہی دنوں میں یہ جماعت مردود ہو کر منتشر ہو جائے گی اور اس سِلسلہ کا نام و نشان مٹ جائے گا۔چنانچہ اس غرض کے لئے بڑی بڑی کوششیں اور منصوبے کئے گئے اور ایک بڑی بھاری سازش میرے خلاف یہ کی گئی کہ مجھ پر اور میری جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور سارے ہندوستان میں اس فتویٰ کو پھرایا گیا۔۔۔۔۔۔مگر مَیں دیکھتا ہوں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ کافر کہنے والے موجود نہیں اورخدا تعالیٰ نے مجھے اب تک زندہ رکھا اور میری جماعت کو بڑھایا۔‘‘ (لیکچرلدھیانہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ ۲۴۹۔۲۵۰)