تذکرة الشہادتین — Page xxv
اِس کے بعد حضورؑ تحدّی سے فرماتے ہیں:۔’’مَیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ حضرت آدمؑ سے لے کر اس وقت تک کے کسی مفتری کی نظیر دو جس نے ۲۵ برس پیشتر اپنی گمنامی کی حالت میں ایسی پیشگوئیاں کی ہوں۔اگر کوئی شخص ایسی نظیر پیش کر دے تو یقیناً یاد رکھو کہ یہ سارا سِلسلہ اور کاروبار باطل ہو جائے گا۔‘‘ (لیکچرلدھیانہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ۲۵۵) اس لیکچر میں مخاطب اکثر مسلمان تھے اس لئے حضور علیہ السلام نے اپنا اور اپنی جماعت کا اِسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان لانے کا اقرار فرمایا ہے اور تفصیل کے ساتھ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات کو کتاب و سنت ، اجماع اور قیاس سے ثابت فرمایا ہے۔آخر میں حضور علیہ السلام نے اہل اسلام کو اسلام کے تابناک مستقبل کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا ہے:۔’’اب وقت آ گیا ہے کہ پھر اسلام کی عظمت شوکت ظاہر ہو اور اِسی مقصد کو لے کر مَیں آیا ہوں۔۔۔مَیں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔‘‘ (لیکچرلدھیانہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ ۲۹۰) ۶۔الوصیّۃ یہ دسمبر ۱۹۰۵ء کی تصنیف ہے۔اس رسالہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وہ تمام الہامات درج فرمائے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات قریب ہے۔نبی کی وفات سے اس کی قوم میں جو زلزلہ پیدا ہوتا ہے اُس کے متعلق حضورؑ نے جماعت کو تسلّی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اﷲتعالیٰ کی قدیم سے یہ سنّت ہے کہ وہ دو۲ قدرتیں دکھلاتا ہے۔(۱)پہلی قدرت نبی کا وجود ہوتا ہے (۲) اور نبی کی وفات کے بعد قدرتِ ثانیہ کا ظہور ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو کھڑا کیاجنہوں نے اسلام کو نابود ہوتے ہوئے تھام لیا۔گویا حضور علیہ السلام نے جہاں اپنی وفات کی خبر دی وہاں ساتھ ہی