تذکرة الشہادتین — Page xxiii
خوبصورت انداز میں پیش فرمایا ہے۔آخر میں حضورؑ نے اپنے دعویٰ اور دلائل اور اپنی پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا ہے جو پوری ہو گئیں۔۴۔اسلام (لیکچر سیالکوٹ) یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک لیکچر ہے جو ۲؍ نومبر ۱۹۰۴ء سیالکوٹ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک کثیر مجمع میں پڑھا گیا۔یہ ’’لیکچر سیالکوٹ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔اِس لیکچر میں حضور علیہ السلام نے اسلام اور دوسرے مذاہب کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت اور زندگی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تمام مذاہب ابتداء میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے لیکن اسلام کے ظہور کے بعد اﷲ تعالیٰ نے باقی تمام مذاہب کی نگہداشت چھوڑ دی ہے جبکہ اسلام میں مجددین و مصلحین کا سِلسلہ برابر جاری ہے۔چنانچہ اِسی سِلسلہ میں اﷲ تعالیٰ نے چودھویں صدی میں بھی دینِ اسلام کی تجدید کے لئے ایک مامور کو مبعوث فرمایا ہے۔حضور علیہ السلام نے اس لیکچر میں پہلی مرتبہ ہندوؤں کے لئے کرشن ہونے کا دعویٰ پیش فرمایا ہے۔اور راجہ کرشن کا ذکر ان الفاظ میں حضورؑ فرماتے ہیں:۔’’ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھاجس پر خدا کی طرف سے رُوح القدس اُترتا تھا۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰صفحہ ۲۲۸) پھر آپ نے بحیثیت کرشن آریہ صاحبان کو ان کی چند بنیادی غلطیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے سب سے پہلی یہ ہے کہ وہ ارواح اور مادہ کے ذرّات کو ازلی اور غیر مخلوق مانتے ہیں۔حضورؑ فرماتے ہیں کہ ایسا ماننے سے خدا تعالیٰ کے وجود کی کوئی عقلی دلیل ہاتھ میں نہیں رہتی کیونکہ اگر رُوح و مادہ غیر مخلوق ہیں تو ان کا باہم اتصال و انفصال بھی خود بخود ممکن ہے پھر کسی خدا کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔دوسری غلطی یہ ہے کہ آریوں نے نجات کو عارضی اور تناسخ کو دائمی قرار دیا ہے۔یہ امور خدا تعالیٰ کی صفات قدرت ، رحم و عدل کے سراسر خلاف ہیں۔آخر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دعاوی کی صداقت کے چند دلائل بیان فرمائے ہیں