تذکرة الشہادتین — Page 77
روحانی خزائن جلد ۲۰ 22 تذكرة الشهادتين وہ گند سے صاف ہو جائیں گے اور یا خدا تعالیٰ ان کو اس پاک سلسلہ سے کاٹ دے گا اور ایک مردار کی طرح مریں گے۔ بڑی غلطی انسان کی دنیا پرستی ہے۔ یہ بد بخت اور منحوس دنیا بھی خوف دلانے سے اور کبھی امید دینے سے اکثر لوگوں کو اپنے دام میں لے لیتی ہے اور یہ اسی میں مرتے ہیں۔ نادان کہتا ہے کہ کیا ہم دنیا کو چھوڑ دیں اور یہ غلطی انسان کو نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو بے ایمان کر کے ہلاک نہ کرے۔ اے نادان کون کہتا ہے کہ تو اسباب کی رعایت چھوڑ دے مگر دل کو دنیا اور دنیا کے فریبوں سے الگ کر ور نہ تو ہلاک شدہ ہے اور جس عیال کے لئے تو حد سے زیادہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا کے فرائض کو بھی چھوڑتا ہے اور طرح طرح کی مکاریوں سے ایک شیطان بن جاتا ہے۔ اس عیال کے لئے تو بدی کا بیج ہوتا ہے اور ان کو تباہ کرتا ہے۔ اس لئے کہ خدا تیری پناہ میں نہیں کیونکہ تو پارسا نہیں۔ خدا تیرے دل کی جڑھ کو دیکھ رہا ہے۔ سو تو بے وقت مرے گا اور عیال کو تباہی میں ڈالے گا لیکن وہ جو خدا کی طرف جھکا ہوا ہے اُس کی خوش قسمتی سے اُس کے زن و فرزند کو بھی حصہ ملے گا اور اس کے مرنے کے بعد بھی وہ تباہ نہیں ہوں گے ۔ جو لوگ مجھ سے سچا تعلق رکھتے ہیں وہ اگر چہ ہزار کوس پر بھی ہیں تاہم ہمیشہ مجھے لکھتے رہتے ہیں اور دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں موقعہ دے تا وہ برکات صحبت حاصل کریں مگر افسوس کہ بعض ایسے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ قطع نظر ملاقات کے سالہا سال گزر جاتے ہیں اور ایک کارڈ بھی اُن کی طرف سے نہیں آتا اس سے میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے دل مر گئے ہیں اور اُن کے باطن کے چہرہ پر کوئی داغ جذام ہے۔ میں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت اُن لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دنیا کے کیڑے نہیں ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں لیکن وہ لوگ جن کی آنکھیں زنا کرتی ہیں اور جن کے دل پاخانہ سے بدتر ہیں اور جن کو مرنا ہر گز یاد نہیں ہے۔ میں اور میرا خدا اُن سے بیزار ہیں۔ میں بہت خوش ہوں گا اگر ایسے لوگ اس پیوند کو قطع کر لیں کیونکہ خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا ۷۶