تذکرة الشہادتین — Page 76
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۶ تذكرة الشهادتين زمین میں دوبارہ نصب کر دوتا وہ بڑھے اور پھولے۔ سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے اُن کے قائم مقام پیدا کر دے گا۔ سو میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جائے گی مگر ابھی تک یہ حال ہے کہ اگر میں ایک تھوڑی سی بات بھی اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے جماعت کے آگے پیش کرتا ہوں تو ساتھ ہی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ مبادا اس بات سے کسی کو ابتلا پیش نہ آوے۔ اب ایک ضروری بات جو اپنی جماعت کے آگے پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ لنگر خانہ کے لئے جس قدر میری جماعت وقتا فوقتامدد کرتی رہتی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ہاں اس مدد میں پنجاب نے بہت حصہ لیا ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ اکثر میرے پاس آتے جاتے ہیں۔ اور اگر دلوں میں غفلت کی وجہ سے کوئی سختی آجائے تو صحبت اور پے در پے ملاقات کے اثر سے وہ بختی بہت جلد دور ہوتی رہتی ہے اس لئے پنجاب کے لوگ خاص کر بعض افراد ان کی محبت اور صدق اور اخلاص میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہر ایک ضرورت کے وقت وہ بڑی سرگرمی دکھلاتے ہیں اور کچی اطاعت کے آثار ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور یہ ملک دوسرے ملکوں سے نسبتا کچھ نرم دل بھی ہے ۔ باایں ہمہ انصاف سے دور ہو گا اگر میں تمام دور کے مریدوں کو ایسے ہی سمجھ لوں کہ وہ ابھی اخلاص اور سرگرمی سے کچھ حصہ نہیں رکھتے کیونکہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جس نے جاں نثاری کا یہ نمونہ دکھا یا وہ بھی تو دور کی زمین کا رہنے والا تھا جس کے صدق اور وفا اور اخلاص اور ستقامت کے آگے پنجاب کے بڑے بڑے مخلصوں کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ وہ ایک شخص تھا کہ ہم سب سے پیچھے آیا اور سب سے آگے بڑھ گیا۔ اسی طرح بعض دور دراز ملک سے مخلص بڑی بڑی خدمت مالی کر چکے ہیں اور اُن کے صدق و وفا میں بھی فتور نہ آیا جیسا کہ اخویم سیٹھ عبدالرحمن تا جر مدراس اور چند ایسے اور دوست لیکن کثرت تعداد کے لحاظ سے پنجاب کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ پنجاب میں ہر ایک طبقہ کے آدمی خدمت دینی سے بہت حصہ لیتے جاتے ہیں اور دور کے اکثر لوگ اگر چہ ہمارے سلسلہ میں داخل تو ہیں مگر بوجہ اس کے کہ ان کو صحبت کم نصیب (۷۵) ہوتی ہے اُن کے دل بکنی دنیا کے گند سے صاف نہیں ہیں۔ امر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو آخر کار