تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 78

روحانی خزائن جلد ۲۰۔ ZA تذكرة الشهادتين چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو لیکن وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔ پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جائیں کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ ان کی نظر پاک ہے نہ اُن کا دل پاک ہے اور نہ اُن کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لئے حرکت کرتے ہیں اور وہ اُس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اسی میں رہتا اور اُسی میں مرتا ہے وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں ۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے ۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور در حقیقت ایک پاک انقلاب اُس کی ہستی پر آجائے اور در حقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرام کاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تا بعدار ہو جائے اور اپنی تمام خودروی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہوئے۔ میں اُس شخص کو اُس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مُردوں کی لاشیں ہوتی ہیں ۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لئے ایک جماعت ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے۔ تو میرا خدا میرے لئے ایک اور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں ان سے بہتر ہوگی ۔ یہ آسمانی کشش کام کر رہی ہے جو نیک دل لوگ میری طرف دوڑتے ہیں۔ کوئی نہیں جو آسمانی کشش کو روک سکے ۔ بعض لوگ خدا سے زیادہ اپنے مکر اور فریب پر بھروسہ رکھتے ہیں شاید اُن کے دلوں میں یہ بات پوشیدہ ہو کہ نبوتیں اور رسالتیں سب انسانی مکر ہیں۔ اور اتفاقی طور پر شہر تیں اور قبولیتیں ہو جاتی ہیں۔ اس خیال سے کوئی خیال پلید تر نہیں اور ایسے انسان کو اس خدا پر ایمان نہیں جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لعنتی ہیں ایسے دل اور ملعون ہیں ایسی طبیعتیں خدا اُن کو ذلت سے مارے گا کیونکہ وہ خدا کے کارخانہ کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ در حقیقت دہریہ اور خبیث باطن ہوتے ہیں۔ وہ جہنمی زندگی کے دن گزارتے ہیں اور مرنے کے بعد بجر جہنم کی آگ کے اُن کے حصہ میں کچھ نہیں۔