تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 75

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۵ تذكرة الشهادتين کے وقت میں جبکہ تین گھنٹے کے قریب بارہ بجے کے بعد رات گزر چکی تھی اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ اب میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو ۔ سو میں نے اُسی درد ناک حالت میں صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کے تصور سے دعا کی کہ یا الہی اس مرحوم کے لئے میں اس کو لکھنا چاہتا تھا تو ساتھ ہی مجھے غنودگی ہوئی اور الہام ہوا ۔ سلام قولا من رب رحیم یعنی سلامتی اور عافیت ہے یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔ پس قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اُسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ ایک ضروری امر اپنی جماعت کی توجہ کے لئے اگر چہ میں خوب جانتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد ابھی تک اپنی روحانی کمزوری کی حالت میں ہیں یہاں تک کہ بعض کو اپنے وعدوں پر بھی ثابت رہنا مشکل ہے لیکن جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبد اللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے اُس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی روح رکھتے ہوں ۔ اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں جیسا کہ میں نے کشفی حالت میں واقعہ شہادت مولوی صاحب موصوف کے قریب دیکھا کہ ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کاٹی گئی * اور میں نے کہا کہ اس شاخ کو (۷۴) حمد اس سے پہلے ایک صریح وحی الہی صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی نسبت ہوئی تھی جبکہ وہ زندہ تھے بلکہ قادیان میں ہی موجود تھے اور یہ وحی الہی میگزین انگریزی ۹ فروری ۱۹۰۳ء میں اور الحکم ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ء اور البدر ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء کالم دو میں شائع ہو چکی ہے جو مولوی صاحب کے مارے جانے کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ قتل خَيْبَةً وَزِيدَ هَيْبَةً یعنی ایسی حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا یعنی لوگوں کو بہت ہیبت ناک معلوم ہوا ۔ اور اس کا بڑا اثر دلوں پر ہوا۔ منہ