تذکرة الشہادتین — Page 74
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۴ تذكرة الشهادتين اچھا نہیں ہوتا ۔ اور بہت امور ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ واقع نہ ہوں حالانکہ اُن کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا ہوتا ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے مگر تم نہیں جانتے اس تمام وحی الہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے (وما رئيسنا ظلما اغيظ من هذا ) لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے اور کابل کی زمین دیکھے لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔ یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔ پہلے اس سے غریب عبدالرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ سنا گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو انہیں دنوں میں سخت ہیضہ کا بل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے مگر ابھی کیا ہے یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانہ میں نظیر نہیں ملے گی ۔ ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔ اے کابل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔ ایک جدید کرامت مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی جب میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو ۱۲ راکتو بر۱۹۰۳ء (۷۳) کو بمقام گورداسپور ایک مقدمہ پر جاؤں جو ایک مخالف کی طرف سے فوجداری میں میرے پر دائر ہے یہ رسالہ تالیف کرلوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں تو ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گردہ سخت پیدا ہوا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ کام نا تمام رہ گیا صرف دو چار دن ہیں۔ اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گا تب خدا تعالیٰ نے مجھے دعا کی طرف توجہ دلائی۔ میں نے رات