تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 71

روحانی خزائن جلد ۲۰ اے تذكرة الشهادتين ہے۔ اگر چہ شریر اور خبیث آدمی بہت کوشش کرتے ہیں کہ قتل کر دیں مگر خدا کا ہاتھ اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔ بعض وقت نادان دشمن دھوکہ سے یہ خیال کرتا ہے کہ کیا میں نیک نہیں ہوں اور کیا میں نماز اور روزہ کا پابند نہیں جیسا کہ یہود کے فقیہوں اور فریسیوں کو یہی خیال تھا بلکہ بعض اُن میں سے حضرت عیسی کے وقت میں ملہم ہونے کا بھی دعوی کرتے تھے مگر ایسا نادان یہ نہیں جانتا کہ جو خدا کے صادق بندے ہوتے ہیں اور گہرے تعلق اُس کے ساتھ رکھتے ہیں وہ اُس صدق اور وفا اور محبت الہیہ سے رنگین ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور اُن کے دشمن کو ہلاک کرتا ہے جیسا کہ بلعم نے تکبر اور غرور سے یہ خیال کیا کہ کیا موسیٰ' مجھے سے بہتر ہے مگر موسیٰ کا خدا کے ساتھ ایک تعلق تھا جس کو لفظ ادا نہیں کر سکتے اور جو بیان کرنے میں نہیں آسکتا۔ اس لئے اندھا بلعم اس تعلق سے بے خبر رہا اور جو اپنے سے بہت بڑا تھا اُس کا مقابلہ کر کے مارا گیا ۔ سو ہمیشہ یہ امر واقع ہوتا ہے کہ جو خدا کے خاص حبیب اور وفادار بندے ہیں۔ اُن کا صدق خدا کے ساتھ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا دار اندھے اُس کو دیکھ نہیں سکتے ۔ اس لئے ہر ایک سجادہ نشینوں اور مولویوں میں سے اُن کے مقابلہ کے لئے اٹھتا ہے اور وہ مقابلہ اُس سے نہیں بلکہ خدا سے ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جس شخص کو خدا نے ایک عظیم الشان غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے خدا چاہتا ہے کہ ایک بڑی تبدیلی دنیا میں ظاہر کرے ایسے شخص کو چند جاہل اور بزدل اور خام اور نا تمام اور بے وفا زاہدوں کی خاطر سے ہلاک کر دے۔ اگر دو کشتیوں کا باہم ٹکراؤ ہو جائے جن میں سے ایک ایسی ہے کہ اُس میں بادشاہ وقت جو عادل اور کریم الطبع اور فیاض اور سعید النفس ہے مع اپنے خاص ارکان کے سوار ہے۔ اور دوسری کشتی ایسی ہے جس میں چند چوہڑے یا چمار یا سانسی بدمعاش بد وضع بیٹھے ہیں۔ اور ایسا موقع آپڑا ہے کہ ایک کشتی کا بچاؤ اس میں ہے کہ دوسری کشتی مع اس کے سواروں کے تباہ کی جائے تو اب بتلاؤ کہ اس وقت کون سی کا رروائی بہتر ہوگی۔ کیا اُس بادشاہ عادل کی کشتی تباہ کی جائے گی یا ان بد معاشوں کی کشتی کہ جو حقیر و ذلیل ہیں تباہ کر دی جائے گی۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بادشاہ کی کشتی بڑے زور اور حمایت سے بچائی جائے گی اور اُن چوہڑوں چہاروں ۷۰) کی کشتی تباہ کر دی جائے گی اور وہ بالکل لا پرواہی سے ہلاک کر دیئے جائیں گے اور اُن کے ہلاک ہونے میں خوشی ہوگی کیونکہ دنیا کو بادشاہ عادل کے وجود کی بہت ضرورت ہے اور اس کا مرنا ایک