تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 70

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۰ تذكرة الشهادتين ۱۸) سلسلہ محمد یہ میں ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (۳) دوسرے وہ نبی اور مامور من اللہ جو سلسلہ کے آخر میں آتے ہیں جیسے کہ سلسلہ موسویہ میں حضرت عیسی علیہ السلام اور سلسلہ محمدیہ میں یہ عاجز ۔ یہی راز ہے کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف میں یعصمک الله کی بشارت ہے ایسا ہی اس خدا کی وحی میں میرے لئے یعصمک اللہ کی بشارت ہے اور سلسلہ کے اول اور آخر کے مرسل کو قتل سے محفوظ رکھنا اس حکمت الہی کے تقاضا سے ہے کہ اگر اول سلسلہ کا مرسل جو صد ر سلسلہ ہے شہید کیا جائے تو عوام کو اس مرسل کی نسبت بہت شبہات پیدا ہو جاتے ہیں کیونکہ ہنوز وہ اس سلسلہ کی پہلی اینٹ ہوتا ہے پس اگر سلسلہ کی بنیاد پڑتے ہی اس سلسلہ پر یہ پتھر پڑیں کہ جو بانی سلسلہ ہے وہی قتل کیا جائے تو یہ ابتلا عوام کی برداشت سے برتر ہوگا اور ضرور وہ شبہات میں پڑیں گے اور ایسے بانی کو نعوذ باللہ مفتری قرار دیں گے مثلاً اگر حضرت موسیٰ فرعون کے رو برو جا کر اُسی روز قتل کئے جاتے یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس روز جس دن قتل کے لئے مکہ میں آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تھا کافروں کے ہاتھ سے شہید کئے جاتے تو شریعت اور سلسلہ کا وہیں خاتمہ ہو جاتا اور بعد اس کے کوئی نام بھی نہ لیتا۔ پس یہی حکمت تھی کہ باوجود ہزاروں جانی دشمنوں کے نہ حضرت موسیٰ شہید ہو سکے اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو سکے ۔ اور اگر آخر سلسلہ کا مرسل شہید کیا جائے تو عوام کی نظر میں خاتمہ سلسلہ پر ناکامی اور نامرادی کا داغ لگایا جائے گا اور خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ خاتمہ سلسلہ کا فتح اور کامیابی کے ساتھ ہو کیونکہ حکم خواتیم پر ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا منشاء ہرگز نہیں ہے کہ خاتمہ سلسلہ پر دشمن ملعون کو کوئی خوشی پہنچے جیسا کہ اس کا منشاء نہیں ہے کہ سلسلہ کی ابتدا میں ہی پہلی اینٹ کے ٹوٹنے سے ہی دشمن لعنتی خوشی سے بغلیں بجاویں۔ پس اس لئے حکمت الہیہ نے سلسلہ موسویہ کے آخر میں حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کی موت سے بچالیا۔ اور سلسلہ محمدیہ کے آخر میں بھی اسی غرض سے کوشش کی گئی یعنی خون کا دعوی کیا گیا تا محمدی مسیح کو صلیب پر کھینچا جائے مگر خدا کا فضل پہلے مسیح کی نسبت بھی اس مسیح پر زیادہ جلوہ نما ہوا اور سزائے موت سے اور ہر ایک سزا سے محفوظ رکھا۔ غرض چونکہ اول اور آخر سلسلہ کے دو دیوار میں ہیں اور دو پشتیبان ہیں اس لئے عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اول سلسلہ اور آخر سلسلہ کے مرسل کو قتل سے محفوظ رکھتا