تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 72

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۲ تذكرة الشهادتين عالم کا مرنا ہے۔ اگر چند چوہڑے اور چمار مر گئے تو اُن کی موت سے کوئی خلل دنیا کے انتظام میں نہیں آسکتا۔ پس خدا تعالی کی یہی سنت ہے کہ جب اُس کے مرسلوں کے مقابل پر ایک اور فریق کھڑا ہو جاتا ہے تو گووہ اپنے خیال میں کیسے ہی اپنے تئیں نیک قرار دیں انہیں کو خدا تعالیٰ تباہ کرتا ہے اور انہیں کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جس غرض کے لئے اپنے کسی مرسل کو مبعوث فرماتا ہے اس کو ضائع کرے کیونکہ اگر ایسا کرے تو پھر وہ خود اپنی غرض کا دشمن ہوگا اور پھر زمین پر اُس کی کون عبادت کرے گا۔ دنیا کثرت کو دیکھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ یہ فریق بہت بڑا ہے۔ سو یہ اچھا ہے۔ اور نادان خیال کرتا ہے کہ یہ لوگ ہزاروں لاکھوں مساجد میں جمع ہوتے ہیں کیا یہ بُرے ہیں مگر خدا کثرت کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ خدا کے خاص بندوں میں محبت الہی اور صدق اور وفا کا ایک ایسا خاص نور ہوتا ہے کہ اگر میں بیان کر سکتا تو بیان کرتا لیکن میں کیا بیان کروں جب سے دنیا ہوئی اس راز کو کوئی نبی یا رسول بیان نہیں کر سکا۔ خدا کے باوفا بندوں کی اس طور سے آستانہ الہی پر روح گرتی ہے کہ کوئی لفظ ہمارے پاس نہیں کہ اس کیفیت کو دکھلا سکے۔ اب بعد اس کے بقیہ ترجمہ کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر چہ میں تجھے قتل سے بچاؤں گا مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہو گا یعنی بے گناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی۔ یہ خدا تعالی کی کتابوں میں محاورہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہ دی جاتی ہے اور کبھی گائیوں سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ سوخدا تعالیٰ نے اس جگہ انسان کا لفظ چھوڑ کر بکری کا لفظ استعمال کیا کیونکہ بکری میں دو ہنر ہیں وہ دودھ بھی دیتی ہے اور پھر اُس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبداللطیف ۲۳ ا اور اُن کے شاگر دعبدالرحمن کے بارے میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تمھیں برس بعد پوری ہوئی۔ اب تک لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اس پیشگوئی کو میری کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۱ میں پڑھا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ ابھی میں نے لکھا ہے بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے اور ایک اُس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا ہے۔ یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں کیونکہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کے وقت انواع اقسام