سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 298

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۶ سرمه چشم آرید ۱۳۸ آریہ دیس ہی ہے بھلا اگر ہم ان تمام باتوں میں بچے نہیں ہیں تو ویدوں کے رو سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ کسی وید کے رشیوں نے آریہ دیس سے باہر قدم رکھ کر اور ویدوں کو اپنی بغل میں لے کر غیر ممالک کا بھی سفر کیا تھا یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی پنڈت دیا نند بھی ثابت نہ کر سکا اب عجیب طور پر وید کے پر میشر کا ظلم ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وید صاف اقراری ہے کہ دنیا کی ابتدا میں متفرق طور پر متفرق ممالک میں نوع انسان زمین سے پیدا ہو گئے تھے اور ان سب کی اصلاح کے لئے وید آئے تھے اور پھر دوسری طرف یہ عجیب دید کچھ ثبوت ہاتھ میں نہیں پکڑا تا کہ کب اور کس وقت ویدوں کے رشی دوسرے ملکوں میں سمجھانے کے لئے گئے تھے یا اپنے خط بھیجے تھے یا پیغام پہنچانے سے شر در تبلیغ پوری کی تھی یا وید میں وصیت کر گئے تھے کہ فلاں فلاں ملک اور بھی ہیں ان میں بقيه حاشیه پانے کے لائق خیال کئے جاتے ہوں اور ان کی بزرگواری اور خدا رسیدہ ہونے پر اکثر عیسائیوں کو اتفاق ہو وہ اس امر کی آزمائش و مقابلہ کے لئے کہ روح قدس کی تائیدات سے کون سی قوم عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے فیض یاب ہے کم سے کم چالیس دن تک اس عاجز کی رفاقت اور مصاحبت اختیار کریں پھر اگر کسی کرشمہ روح القدس کے دکھلانے میں وہ غالب آجائیں تو ہم اقرار کر لیں گے کہ یہ پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے اور نہ صرف اقرار بلکہ اس کو چند اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر ہم غالب آ گئے تو پادری صاحب کو بھی ایسا ہی اقرار کرنا پڑے گا اور چند اخباروں میں چھپوا بھی دینا ہوگا کہ وہ پیشگوئی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نکلی مسیح کو اس سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ اس تصفیہ کے لئے ہماری صحبت میں بھی رہنا کچھ ضروری نہیں ۔ یہ عاجز عقریب اس رسالہ کے بعد رسالہ سراج منیر کو انشاء اللہ القدیر چھپوانے والا ہے