سُرمہ چشم آریہ — Page 299
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۷ سرمه چشم آرید جاؤ اور وید کی تعلیم کو ان ملکوں میں پھیلاؤ سو جب کہ ثابت ہے کہ ویدوں نے دوسرے ملکوں سے کبھی کچھ غرض نہیں رکھی سو اس سے آریوں کی زبان درازی کا اندازہ کر لینا چاہیے کہ وہ وید کے چار نامعلوم رشیوں کے مقابل خدائے تعالیٰ کے ہزار ہا پاک نبیوں کو جو مختلف ممالک میں ہوئے ہیں جن کی روشنی زمین پر آفتاب کی شعاع کی طرح پھیل گئی مکار بقيه حاشیه و وسب مضمون روح القدس کی تائید سے ہی بہم پہنچا ہے سو اب کوئی ایسا عیسائی جو قوم (۲۳۹) میں بزرگ وار اور واقعی نیک بخت ہو اس کا مقابلہ کر کے دکھاوے ورنہ کون دانا ہے جو بے امتحان ان کی روح القدس کے بپتسما کا قائل ہوگا۔ چوں گمانے کنم اینجا مدد روح قدس که مرا در دل شاں دیو نظر می آید اس مدد باست در اسلام چه خورشید عیان کہ بہر عصر مسیحائی دگر می آید اب ہم پھر اصل کلام کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ شان جلیل عظیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو مظہر اتم الوہیت ہے جیسے تمام نبی ابتدا سے بیان کرتے آئے ہیں ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شان عالی کا اقرار کیا ہے یہ اقرار جابجا انجیلوں میں موجود ہے بلکہ اسی اقرار کے ضمن میں حضرت مسیح علیہ السلام اقرار کرتے ہیں کہ میری تعلیم ناقص ہے کیونکہ ہنوز لوگوں کو کامل تعلیم کی برداشت نہیں مگر و ه روح راستی جو نقصان سے خالی ہے ( یعنی سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کا قرآن شریف میں بھی نام حق آیا ہے ) وہ کامل تعلیم لائے گا اور لوگوں کونئی باتوں کی خبر دے گا۔ انجیل برنباس میں تو صریح نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو محمد ہے درج ہے اور اس کے ٹالنے کے لئے یہ نا کارہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے کسی زمانہ میں یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کتاب برنباس میں درج کر دیا ہوگا یا خود کتاب تالیف کر دی ہوگی گو یا مسلمان لوگ کسی رات کو