سُرمہ چشم آریہ — Page 250
١٩٠ روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۸ سرمه چشم آریه جس کا نام ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس نے چالیس دن تک بھی ہماری آزمائش کے لئے ہماری صحبت میں رہنا منظور نہیں کیا حالانکہ ان پنڈت صاحب کو تنخواہ دینا بھی قبول کیا گیا تھا ۔ ان صاحبوں کو بجز دشنام دہی اور بد زبانی اور آلائش کی باتوں کے جوان کے اندر بھری ہوئی ہیں اور کوئی حرف صلاحیت و معقولیت یاد نہیں ۔ اگر اب بھی یہ صاحب چالیس دن تک ہمارے پاس رہنا منظور کریں اور ہم الہامی پیشگوئیوں میں جھوٹے نکلیں تو جو ذلیل تر سزا تجویز کی جائے اسی کی ہم لائق ہیں ورنہ چوٹی کٹانا اور مسلمان ہونا ان پر واجب ہوگا ۔ ماسوا اس کے جو کچھ ہمارا دعویٰ پیشگوئیوں کی نسبت ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ صرف ایک دو پیش گوئیوں سے اس کا ثبوت دیا جاتا ہے بلکہ اس دعوی کے اثبات کے بارے میں عنقریب رسالہ سراج منیر بفضل خداوند قدیر چھپ کر شائع ہونے والا ہے اور وہ تمام رسالہ الہامی پیش گوئیوں پر مشتمل ہے تب سب لوگ دیکھ لیں گے کہ جو کچھ ہمارے مخالفین ہماری نسبت طرح طرح کی رائیں لگاتے ہیں ان کی کیا اصلیت و حقیقت ہے ۔ ہم اس رسالہ میں مرزا امام الدین جو ہماری برادری میں سے ہے اور دین اسلام سے مرتد ہے اور اب آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے اس کی نسبت بھی کئی پیشگوئیاں لکھیں گے ۔ ہم پر آج بھی جو تیسری اگست ۱۸۸۶ء ہے منجانب اللہ اس کی نسبت معلوم ہوا ہے کہ اگر وہ تو بہ نہ کرے تو اُس کی بے راہیوں بقيه حاشیه که گویا وہ ایک خط مستقیم ما نقیم ممتد مد محدود ہے جس کی دونوں طرفوں میں سے ایک طرف ارتفاع اور دوسری طرف انحصاض ہے اس طرح پر طرف ارتفاع طرف انحصاض اس قدر بیان میں تو ایک موٹی سمجھ کا آدمی بھی میرے ساتھ اتفاق رائے کر سکتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور دائرہ انسانیت میں بہت سی متفاوت اور کم و بیش استعدادیں پائی جاتی ہیں کہ اگر کمی بیشی