سُرمہ چشم آریہ — Page 249
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۷ سرمه چشم آرید فرماتے ہیں کہ ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء سے بہت عرصہ پہلے دلیپ سنگھ صاحب کا عزم (۱۸۹) ہندوستان کے خاص و عام میں مشہور ہو چکا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے نہیں سمجھا کہ اس مشہوری سے پیشگوئی کے مضمون کو کیا تعلق ہے بلکہ پیش گوئی کا مضمون تو صرف اس بات سے مخصوص ہے کہ دلیپ سنگھ صاحب کو قصد پنجاب میں ناکامی ہے اور ان کی عزت یا جان یا آسائش پر اس سفر میں صدمہ پہنچے گا۔ اب منصفین خیال کریں کہ اخبار عام لاہور کی یہ نکتہ چینی پیشگوئی پر کیا اثر پہنچا سکتی ہے اور ان کا انصاف اور فہم جو منصب اخبار نویسی کے لئے ایک ضروری شرط ہے کس درجہ کا ہے افسوس کہ بہت لوگ حسد اور عناد کے اشتعال میں پڑ کر حقیقت حال کو نہیں سوچتے جیسا کہ انہیں پیشگوئیوں کے متعلق ایک صاحب پنڈت لیکھرام نے ناحق اپنا اندرونی بخل اور نا انصافی اور ہٹ دھرمی ظاہر کرنے کے لئے جابجا اشتہارات شائع کئے اور ایں جانب پر یہ الزام رکھا کہ گویا ہم نے کسی اشتہار میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ لڑکا موصوف بصفات جس کا اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں ذکر ہے ضرور حمل موجودہ میں ہی پیدا ہو جائے گا ہر گز اس سے تخلف نہیں کرے گا وہ ظہور میں نہیں آئی حالانکہ ایسا اور ان شرائط سے کوئی اشتہار اس طرف سے شائع نہیں ہوا اور اگر ہے تو کیوں پیش نہیں کیا۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ آنکھوں کی نا بینائی کچھ ضر ر نہیں کر سکتی بلکہ دلوں کی نابینائی جو تعصب کے بخارات سے پیدا ہوتی ہے وہی ضرر کرتی ہے یہ شخص بقيه حاشیه تم یوں ہی سمجھ لو کہ اس کا قانون قدرت جو اس کی صفت وحدت کے مناسب (۱۸۹ حال ہے یہی ہے کہ وہ بوجہ واحد ہونے کے اپنے افعال خالقیت میں رعایت وحدت کو دوست رکھتا ہے۔ جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اگر ہم اس سب کی طرف نظر غور سے دیکھیں تو اس ساری مخلوقات کو جو اس دست قدرت سے صادر ہوئی ہے ایک ایسے سلسلہ وحدانی اور با ترتیب رشتہ میں منسلک پائیں گے