سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 251

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۹ سرمه چشم آرید کا وبال جلد تر اسے درپیش ہے اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو تو اس کو پیشگوئی (19) کا مصداق مت سمجھو لیکن اگر ایسا رنج پیش آیا جو کسی کے خیال گمان میں نہیں تھا تو پھر سمجھنا چاہیے کہ یہ مصداق پیشگوئی ہے لیکن اگر وہ باز آنے والا ہے تو پھر بھی انجام بخیر ہوگا یا تنبیہ کے بعد راحت پیدا ہو جائے گی ۔ اور یہ دعوی ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الہی پاسکتا ہے کیونکہ اول تو اس پر تجر بہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معرفت الہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے رب کریم جل شانہ سے ہم کلام ہو جائے۔ یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلی پاتی ہیں اور سب شکوک وشبہات دور ہو جاتے ہیں اور اسی درجہ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقہ معرفت کو پالیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق ضعیف سے کس قدرقرب واقعہ ہے۔ اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کر لے گا بقيه حاشیه کے لحاظ سے ان کو ایک با ترتیب سلسلہ میں مرتب کریں تو بلاشبہ اس سے ایک (۱۹) اسی خط مستقیم ممتد محدود کی صورت نکل آئے گی جو او پر ثبت کیا گیا ہے ۔طرف ارتفاع کے اخیر نکتہ پر اس استعداد کا انسان ہو گا جو اپنی استعداد انسانی میں سب نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انحصاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہوگی جو اپنے غایت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لا یعقل کے