سُرمہ چشم آریہ — Page 246
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۴ سرمه چشم آرید ۱۸۶) شرائط سے جو اس رسالہ میں اندراج پا چکی ہیں ماسٹر صاحب برا نہ مانیں میں سچ سچ کہتا ہوں بالکل سچ جس میں ذرا مبالغہ کی آمیزش نہیں کہ قرآن شریف نے جس قدر خوبی اور عمدگی اور صفائی اور سچائی سے روحوں کے خواص اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور استعداد میں اور ان کے دیگر کوائف عجیبہ بیان کئے ہیں اور پھر ان سب بیانات کا ثبوت دیا ہے وہ ایسا عالی اور باریک اور پر حکمت بیان ہے اور ایسے کامل درجہ کی وہ صداقتیں ہیں کہ اگر وید کے چاروں رشی دوبارہ جنم لے کر بھی دنیا میں آویں اور جہاں تک ممکن ہو خوض اور فکر سے زور لگاو میں تب بھی یہ مقام وسعت علمی اور یہ معارف عالیہ انہیں میسر نہیں آ سکتے اگر چہ فکر کرتے کرتے مری جاویں۔ غصہ منانے کی کیا بات ہے اور ناراض ہونے کا کونسا حل ۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ آؤ دید اور قرآن کا مقابلہ کر کے دیکھ لیں۔ ان دونوں کتابوں کی طاقت علمی آزمالیں۔ دیکھو ہم محض سچائی کی راہ سے دونوں فریق میں سے اس فریق پر لعنت کرتے ہیں کہ جو اب حق پوشی کی راہ سے اس بحث سے گریز کر جائے اور ادھر اُدھر کے بہانوں سے یا بے جاعذروں سے بات کو ٹال دے۔ مگر یادر ہے کہ اس بحث میں کسی دلیل یا دھوئی میں وید کی شرقی سے باہر نہ جانا ہوگا۔ جیسا کہ ہم بھی آیات قرآن شریف سے باہر نہ جائیں گے اور یہ بھی آپ پر لازم ہوگا کہ ہر یک شرقی ٹھیک ٹھیک سنسکرت کی زبان میں مگر فارسی خط میں معہ اسکے لفظی بقيه حاشیه البقرة : ۲۵۴ اپنی ذات بے مثل و مانند کا نمونہ پیدا کرتا ہے کہ اپنی ذاتی خوبیاں جن پر اس کا علم محیط ہے عکسی طور پر بعض اپنی مخلوقات میں رکھ دیتا ہے اور کمالات کا انتہائی درجہ جو حقیقی طور پر اس کو حاصل ہے ظلی طور پر اس مخلوق کو بھی بخش دیتا ہے جیسا کہ اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ بھی ہے وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتٍ اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں