سُرمہ چشم آریہ — Page 247
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۵ سرمه چشم آرید ترجمہ و پستہ ونشان کے تحریر کریں اور انہیں باتوں کا التزام آیات قرآنی کے بیان کرنے (۱۸۷) میں ہم پر بھی واجب ہوگا۔ قوله ۔ ایک دو خواص مرزا صاحب نے روحوں کے لکھے ہیں مثلاً پوشیدہ باتوں کے دریافت کرنے کی طاقت پیدا کر لینا جس کا مرزا صاحب خود بھی دعویٰ کرتے ہیں اور آج تک کوئی نہیں دکھلایا۔ اقول ۔ یہ برکات مکاشفات و مکالمہ و مخاطبہ الہی وغیرہ خوارق صراط مستقیم پر چلنے سے بے شک خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرمانبردار روحوں کو اصفی و اجلی طور پر عطا کی جاتی ہیں اور جو کچھ راقم رسالہ ھذا پر پیشگوئیاں منجانب اللہ ظاہر ہوئی ہیں ان میں سے قریب ستر پیشگوئیوں کے گواہ تو خود آریہ سماج والے ہیں جو آپ کے بھائی بند قادیان میں رہتے ہیں بلکہ آپ بھی تو انہیں میں داخل ہیں دلیپ سنگھ کے ابتلا کا حال جو آپ نے پیش از وقوع اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں پڑھ لیا تھا اور پھر میری زبانی بھی ایک مجمع عام میں جس میں کئی ہندو صاحب آپ کے رفیق بھی شامل تھے سن لیا تھا۔ یہ تازہ ماجرا امید نہیں کہ اس قدر جلد تر عرصہ میں آپ کو بھول گیا ہو اب آپ ذرا بیدار ہو کر دیکھیں کہ یہ پیشگوئی کیسی ہو بہو پوری ہوگئی اور دلیپ سنگھ کو قصد سفر پنجاب میں کیا کچھ غم وغصہ و تلخی و رنج اٹھانا پڑا اور کیسے وہ نا کامی سے خفیف کر کے واپس لٹایا گیا۔ کیا آپ حلف بقيه حاشیه جن کو ظلمی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اظلال و آثار ۱۸۷ کے ہیں بخشے گئے اور وہ خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے محقق کے لئے سلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے اپنے مرتبہ اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہو کر آئینہ خدا نما ہوئے ۔ یہ بحث معارف الہیہ میں سے نہایت باریک بحث ہے اور ہمارے مخالفین جو ان