سُرمہ چشم آریہ — Page 234
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۲ سرمه چشم آریہ (۱۷۳) رہنے والے نے میرے پاس بیان کیا کہ میں نے روحوں کی پیدائش کے بارے میں دیانند جی سے دریافت کیا تو لگے باتیں بنانے اور فرمایا کہ پہلے جو ہو چکا سو ہوچکا آئندہ اگر پر میشر پیدا کرتا ہی چلا جائے تو اتنا بڑا وسیع مکان کہاں سے لائے جن میں روحیں رہا کریں اب دیکھو کہ اس تقریر میں ناچار ہو کر دیا نند نے اس قدر مان لیا کہ اوّل پر میشر نے ضرور روحوں کو پیدا کیا تھا لیکن آئندہ اس خوف سے پیدا کرنے سے دست کش ہے کہ کوئی بقيه حاشیه اپنے ہی ارادہ سے تو یہ جائز نہیں کیونکہ کوئی شخص اپنے لئے بالا رادہ نقصان روا نہیں رکھتا تو پھر کیونکر خدائے تعالیٰ جو بذات خود کمالات کو دوست رکھتا ہے ایسے ایسے نقصان اپنی نسبت روا ر کھے اور اگر کہو کہ کسی قاسر کی قسر سے یہ نقصان اس کو پیش آیا تو چاہیے کہ ایسا قا سر اپنی طاقتوں اور قوتوں میں خدائے تعالیٰ پر غالب ہوتا وہ زیادت قوت کی وجہ سے اس کو اس کے ارادوں سے روک سکے اور یہ خود ممتنع اور محال ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ پر اور کوئی قاسر نہیں جس کی مزاحمت سے اس کو کوئی مجبوری پیش آوے پس ثابت ہوا کہ ضرور خدائے تعالیٰ کا علم کامل تام ہے اور پہلے ہم ابھی ثابت کر چکے ہیں کہ علم کی تمام قسموں میں سے کامل و تام وہ علم ہے کہ جو ایسا ہو جیسے ایک انسان کو اپنی ہستی کی نسبت علم ہوتا ہے سو ماننا پڑا کہ خدائے تعالی کا علم اپنی مخلوقات کے بارہ میں اسی علم کی مانند اور اسی کے مشابہ ہے گو ہم اس کی اصل کیفیت پر محیط نہیں ہو سکتے لیکن ہم اپنی عقل سے جس کی رو سے ہم مکلف ہیں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بڑا قطعی اور یقینی علم یہی ہے جو عالم اور معلوم میں کسی نوع کا بعد اور حجاب نہ ہو سو دو قسم علم کی یہی ہے اور جس طرح ایک انسان کو اپنی ہستی پر مطلع ہونے کے لئے دوسرے وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ جاندار ہونا