سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 235

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۳ سرمه چشم آرید ایسا بڑا مکان اسے نہیں ملتا۔ اس تقریر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت دیا نند کو اپنی عمر کے آخری حصہ میں وید کی ایسی ایسی تعلیموں کی نسبت بہت کچھ شکوک اور شبہات پڑگئے تھے بلکہ رسالہ دھرم جیون پندرھویں جولائی ۱۸۸۶ء میں لکھا ہے کہ پنڈت دیا نند صاحب جاتے وقت اشاروں کنایوں سے بعض معزز بر ہمو صاحبوں کو سمجھا گئے کہ اب میرا ایمان ویدوں پر نہیں رہا۔ میں کہتا ہوں کہ پنڈت صاحب تو پنڈت صاحب ہی تھے بقيه حاشیه اور اپنے تئیں جاندار سمجھنا دونوں باتیں ایسی باہم قریب واقع ہیں کہ ان (۷۵) میں ایک بال کا فرق نہیں سو ایسا ہی جمیع موجودات کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا علم ہونا ضروری ہے یعنی اس جگہ بھی عالم اور معلوم میں ایک ذرہ فرق اور فاصلہ نہیں چاہیے اور یہ اعلیٰ درجہ علم کا جو باری تعالیٰ کو اپنے تحقق الوہیت کے لئے اس کی ضرورت ہے اسی حالت میں اس کے لئے مسلم ہو سکتا ہے کہ جب پہلے اس کی نسبت یہ مان لیا جائے کہ اس میں اور اس کے معلومات میں اس قدر قرب اور تعلق واقع ہے جس سے بڑھ کر تجویز کرنا ممکن ہی نہیں اور یہ کامل تعلق معلومات سے اسی صورت میں اس کو ہو سکتا ہے کہ جب عالم کی سب چیزیں جو اس کی معلومات ہیں اس کے دست قدرت سے نکلی ہوں اور اس کی پیدا کردہ اور مخلوق ہوں اور اس کی ہستی سے ان کی ہستی ہو یعنی جب ایسی صورت ہو کہ موجود حقیقی وہی ایک ہو اور دوسرے سب وجوداس سے پیدا ہوئے ہوں اور اس کے ساتھ قائم ہوں یعنی پیدا ہوکر بھی اپنے وجود میں اس سے بے نیاز اور اس سے الگ نہ ہوں بلکہ در حقیقت سب چیزوں کے پیدا ہونے کے بعد بھی زندہ حقیقی وہی ہو اور دوسری ہر ایک زندگی اسی سے پیدا ہوئی ہو اور اس کے ساتھ قائم ہو اور بے قید حقیقی وہی