سُرمہ چشم آریہ — Page 233
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۱ سرمه چشم آرید علم نہیں اور یا شاید کچھ ہے تو ایک ناقص اور نا تمام سا علم ہے جیسے ایک موتیا بند والے کو ۷۳۲ اپکے جس کی آنکھوں پر نزول الماء اتر آیا ہو کچھ کچھ اوّل دھندلا سا نظر آتا ہے اور پھر آخر کار پورا پورا اندھا ہو جاتا ہے پس صاف ظاہر ہے کہ ایسی خراب تعلیم کو جس کے ایسے ایسے خراب نتائج ہیں کسی صاف دل ہندو کی روح بھی قبول نہیں کر سکتی بلکہ پنڈت دیانند کے دل نے بھی اس کو قبول نہیں کیا لالہ شرم پت ایک آریہ اسی جگہ قادیان کے حاشیه یا ایک نہایت باریک صداقت ہے کہ علم باری تعالیٰ جس کی کاملیت کی وجہ سے وہ (۱۷۳) ذرہ ذرہ کے ظاہر و باطن پر اطلاع رکھتا ہے کیونکر اور کس طور سے ہے اگر چہ اس کی اصل کیفیت پر کوئی عقل محیط نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی اتنا کہنا سراسر سچائی پر مبنی ہے کہ وہ تمام علم کے قسموں میں سے جو ذہن میں آسکتے ہیں اشد واقوئی واتم و اکمل قسم ہے۔ جب ہم اپنے حصول علم کے طریقوں کو دیکھتے ہیں اور اس کے اقسام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنے سب معمولی علموں میں سے بڑا یقینی او قطعی وہی علم معلوم ہوتا ہے جو ہم کو اپنی ہستی کی نسبت ہے کیونکہ ہم اور ایسا ہی ہر ایک انسان کسی حالت میں اپنی ہستی کو فراموش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں کوئی شک کر سکتا ہے سو جہاں تک ہماری عقل کی رسائی ہے ہم اس قسم کے علم کو اشد واقوئی واتم و اکمل پاتے ہیں اور یہ بات ہم سراسر خدائے تعالیٰ کی ذات کامل سے بعید دیکھتے ہیں کہ جو اس درجہ اور اس قسم کے علم سے اس کا علم اپنے بندوں کے بارہ میں کمتر ہو کیونکہ یہ بڑے نقص کی بات ہے کہ جو اعلیٰ قسم علم کی ذہن میں آسکتی ہے وہ خدائے تعالیٰ میں نہ پائی جائے اور اعتراض ہو سکتا ہے کہ کس وجہ سے خدائے تعالیٰ کا علم اعلیٰ درجہ کے علم سے مترول رہا آیا اس کے اپنے ہی ارادہ سے یا کسی قاسر کے قسم سے اگر کہو کہ اس کے