سُرمہ چشم آریہ — Page 230
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۸ سرمه چشم آرید (۱۷۰) کی بالکل جھوٹی اور غلط ہے پس جب کہ نا تک صاحب حسب تعلیم قرآن شریف خدائے تعالیٰ کے خالق اور رب العالمین ہونے پر ایمان لے آئے تھے اور ویدوں کی ایسی ایسی تعلیموں کو انہوں نے یک لخت چھوڑ دیا تھا اس لئے ان صاحبوں کی خدمت میں جو نا تک صاحب کے سکھ ہو کر اور کشن سنگھ بشن سنگھ نارائن سنگھ بھگوان سنگھ وغیرہ نام رکھوا کر پھر اپنے گورو کے گرنتھ سے باہر چلے جاتے ہیں بادب تمام عرض کیا جاتا ہے کہ وہ بھی وید کی ایسی ایسی تعلیموں سے دست کش ہو جائیں ورنہ اگر نا تک صاحب سے روحانی موافقت نہیں تو پھر خواہ نخواہ ایک ٹوکرا کیسوں کا سر پر اٹھائے رکھنا اور حرارت اور عفونت کی تکلیفیں اٹھانا ضرورت ہی کیا ہے۔ نانک صاحب روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں اپنے گرنتھ میں کافی شہادت دے گئے ہیں چنانچہ وہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔ ایتی کیتی ہور کرے۔ تا آکھ نہ سکے کئی کے۔ یعنی اگر اس قدر ارواح اور اجسام جو پہلے خدائے تعالیٰ پیدا کر چکا ہے اور پیدا کرے تو وہ کر سکتا ہے اور اس کی قدرتوں کے مقابل اور ہم قدم تعریفیں چل نہیں سکتیں۔ یہ مقولہ نانک صاحب کا بالکل قرآن شریف کی ایک آیت کا گویا ترجمہ ہے اور سراسر اس کے مطابق ہے چونکہ نانک صاحب اکثر دلی اخلاص سے علماء اسلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور دینی باتیں سنتے تھے اس لئے کسی مولوی صاحب کی زبانی انہوں نے یہ مضمون آیت کا سن لیا ہوگا کیونکہ مسلمانوں سے اکثر ان کی صحبت رہتی تھی ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ بعض اوقات وہ نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور پھر اس کے بعد ان کا یہ شہد ہے جو نیچے لکھا جاتا ہے۔ جے وڈ بھاوے تے وڈ ہو۔ نانک جانے سا چا ہو۔ آفرین اے نانک آفرین یہ شہد بھی قرآن شریف کی اس آیت کے سراسر مطابق زبان سے نکل گیا ہے اور آیت یہ ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی تمام محامد اور تمام کمالات اور تمام تعریفیں اور تمام بزرگیاں اور خوبیاں جو مرتبہ جلیلہ خدائی کے لئے ضروری ہیں وہ سب اللہ جل شانہ کو حاصل اور اس کی ذات میں جمع