سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 231

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۹ سرمه چشم آرید ہیں جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی اور وہ تمام عالمین کا رب اور پیدا کنندہ اسے ایک ہے پس اسی آیت شریفہ کے مطابق ناتک صاحب کا شہد ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ جو بزرگی اور عظمت اور قدرت خدائے تعالیٰ کو چاہئے وہ سب اسے حاصل ہے۔اے نانک جو اس بات کو جانتا ہے وہی صادق ہے۔ افسوس اس بات کو دید کیوں نہیں جانتا آریہ لوگ کیوں نہیں جانتے دیانند صاحب کیوں جانے بغیر کوچ کر گئے ۔ یہ ظاہر ہے کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشا ایک کمال ہے جو بڑی تعریف کے لائق ہے اور خداوہ ہونا چاہیے جس میں سب کمالات اور سب تعریف کی باتیں پائی جائیں مگر وید کے پر میشر پر یہ کیا مصیبت نازل ہوئی کہ وہ اس بھاری درجہ کے کمال سے کہ جو تمام کارخانہ خدائی کی کنجی ہے بے نصیب رہ گیا۔ دیکھو اے کیسوں والے آریو ! جو نا تک صاحب کے چیلہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو کہ نانک صاحب صاف قرآنی آیت کی تصدیق کر کے کہتے ہیں کہ صادق وہی ہے کہ جو ان سب بزرگیوں اور تعریفوں کا قائل ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے کمال تام کے لئے مطلوب ہیں ورنہ جھوٹا اور دروغگو ہے۔ سو تم اب تو دید کا پیچھا چھوڑو کہ تمہارے گورو صاحب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں اور اپنے شہد تمہیں سنارہے ہیں اور پھر دیکھو کہ وہ مخالفوں پر ناراض ہو کر آگے کیا فرماتے ہیں۔ جے کو آکھے بول بگاڑ ۔ تالکھی سر گواراں گوار ۔ یعنی اگر کوئی یہ بات تسلیم نہ کرے اور اس کا مخالف کچھ منہ پر لاوے تو اس کو جاہلوں کا سردارلکھنا چاہیے۔اے نانک صاحب آپ کہاں اور کدھر ہو اب تو آپ ہی کے چیلے آریہ سماج میں بیٹھ کر بول بگاڑ رہے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ وہ تو وید کی شرتیوں کو سچ مچ درست سمجھ کر خدائے تعالیٰ کا خالق اور رب العالمین ہونا غیر ممکن سمجھتے ہیں اور اگر کسی کے منہ سے بھولے سے یہ نکل بھی جائے کہ میری روح کا رب اور پیدا کنندہ پر میشر ہے تو اس کو مہان پاپی خیال کرتے ہیں اور اپنے پر میشر کو صرف اس قدر