سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 229

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۷ سرمه چشم آرید خاص نصیحت کرتے ہیں کہ تمہارے گر و صاحب نے جابجا وید سے مخالفت کی ہے اور جہاں ۱۶۹ تک ان کی علمی حیثیت تھی انہوں نے دین اسلام کے عقائد کو پسند کیا ہے بلکہ ایک صاحب نرائن سنگھ نام گرنتھ خوان واعظ نے ایک سو سے زیادہ آدمیوں کے مجمع میں ہمارے روبرو بیان کیا کہ وہ بعض اوقات اعمال عبادت بھی اسلام کے طور پر بجالاتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ در پردہ حق کے قبول کرنے کے لئے بہت کچھ تیار ہو گئے تھے۔ وہ اپنے گرنتھ میں فرماتے ہیں کہ جو ہمیشہ خود بخود بغیر کسی کے پیدا کرنے کے چلا آیا ہے وہی پر میشر ہے جیسے ان کا یہ شہد ہے۔ ”تہا پیا نہ جا کیتا نہ ہو۔ آپے آپ نرنجن سؤ“۔ یعنی جو بغیر کسی کے پیدا کرنے کے خود بخود قدیم سے چلا آیا ہے وہی خدا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر روحوں کو قدیم اور خود بخود مانا جائے تو اس تعریف کے رو سے ان سب روحوں کا خدا ہونا لازم آتا ہے تو پھر یہ پر میشر کی کیا تعریف ہوئی جس میں سارا جہان داخل ہے۔ اور اگر ہم اس تعریف کو غلط اور خلاف عقائد ہنود سمجھیں اور یہ خیال کریں کہ نا تک صاحب نے بوجہ نہ ہونے علم وید کے اپنے پر میشر کی ایسی تعریف کر دی ہے جو صریح دید کے اصولوں کے برخلاف ہے تو اس میں نا تک صاحب کی کسر شان ہے کیونکہ وہ اپنے گرنتھ کے کئی مقامات میں صاف صاف لکھتے ہیں کہ میں نے وید پڑھا ہوا ہے اور چاروں ویدوں کی تعلیمیں مجھ سے پوشیدہ نہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ وید تناسخ کو مانتا ہے جس کی بنیا د روحوں کا غیر مخلوق ہونا ہے پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ وید کی تعلیم کو اس جگہ نا تک صاحب نے قبول نہیں کیا اور جابجا یہ بھی جتلا دیا کہ میں ویدوں کی تعلیم سے ناواقف نہیں اور نہ بے علم ہوں بلکہ چاروں ویدوں کو میں نے پڑھا اور خوب کنٹھ کیا ہوا ہے سو اتنے بڑے دعوی سے ناتک صاحب کا وید کے اس اصل الاصول سے دست بردار ہو جانا صاف دلالت کرتا ہے کہ نا تک صاحب ویدوں کے اس بھاری عقیدہ سے جو مدار تناسخ ہے اپنی زندگی میں بیزار ہوچکے تھے اور ہادی مطلق نے ان کے دل کو یہ ہدایت کر دی تھی کہ یہ تحریر ویدوں