سُرمہ چشم آریہ — Page 220
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۸ سرمه چشم آرید ۱۲۰ بالطبع شاق اور ناگوار گزرتا ہے سو یہ انتظامی امر ہے جو حکیم مطلق نے روح اور جسم کے باہم ملانے کے لئے پہلے سے قائم کر دیا ہے اگر روحیں اتفاقی ہوتیں اور کوئی ان کا پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ بے شمار اور کروڑ ہا روحوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہ پائی جاتی جو مناسبت تعلق بالجسم سے خالی اور اس کے برخلاف ہوتی پھر اگر اتفاق سے یہ مصیبت پیش آجاتی کہ پر میشر کو سب روحیں ایسی ہی ملتیں جن میں قوت قبولیت تعلق جسم پائی نہ جاتی تو اس صورت میں پر میشر کیا کر سکتا کس کار دیگر کو کہتا کہ ان تمام روحوں کو تو ڑ کر نئے سرے مجھے ایسی روحیں بنا دے جن میں تعلق بالاجسام کی قوت پیدا ہو جائے سواب لیجئے وہ سب باتیں کاریگری وانتظام وغیرہ کی جو آپ نے ابھی بیان کی تھیں وہ روحوں اور جسم کے ٹکڑوں میں پائی گئیں جس سے بقول آپ کے واجب ہوا کہ ان کا کوئی موجد ضرور ہو۔سولوصاحب اب تو آپ پر اقبالی ڈگری ہوگئی۔ اخیر پر ہم آپ کو یہ بھی اطلاع دے دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ کا یہ دعویٰ جو آپ کہتے ہیں کہ اگر تمام ارواح اور جسمی مادوں کو معہ جمیع عجائب وغرائب خواص ان کے کے خود بخود بغیر پیدا کرنے کسی پیدا کنندہ کے سمجھ لیں جیسے اصول آریہ سماج کا ہے یعنی یہ خیال کرلیں کہ ارواح و مواد اجسام معہ جمیع خواص اپنے کے خود بخود ہیں تو اس سے اثبات صانع میں کوئی حرج عائد نہیں ہوسکتا بلکہ جوڑ نا جاڑ نا جس کے آریہ سماج والے قائل ہیں اثبات صانع کے لئے کافی ہے یہ تقریر آپ کی صاف ثابت کر رہی ہے کہ آپ میں فطرتی طور پر مادہ ثبوت غیر ثبوت کی شناخت کرنے کا نہایت ہی کم ہے میں نے آپ کی غلطی اقوال متذکرہ بالا میں کھول دی ہے دانشمند کے لئے تو اسی قدر کافی ہے لیکن میں محض خیر خواہی کے رو سے آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ کو بحث مباحثہ کا شوق ہے تو کسی سے ایک رسالہ منطق کا ضرور پڑھ لیجئے۔ یہ کام مباحثات مناظرات کا بڑا نازک کام ہے اس کے انصرام کے لئے صرف جوش مذہبی کافی نہیں ہے اتنا تو ہو کہ انسان دعوئی اور دلیل میں فرق معلوم کر سکے اور بیہودہ