سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 219

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۷ سرمه چشم آرید بنیاد قرار دی تو پھر باقی کیا رہ گیا اونٹ تو نکلا گیا اب اگر دم باقی رہ گئی ہے تو اس کے اندر (۱۵۹) جانے میں کون سی مشکلات ہیں ہاں آپ کو اپنے دہریوں بھائیوں سے مل کر موجد حقیقی کے ماننے والوں کے ساتھ بحث کرنی چاہیے اور ان کو بطور مددگار لانا چاہئے اور دیکھا بھی گیا ہے کہ بعض آر یہ نا چار ہو کر دہریوں سے مشورہ لیتے ہیں تا کسی طرح خود بخود اور غیر مخلوق ہونے پر کوئی دلیل نکل آوے مگر اے ماسٹر صاحب آپ لوگ ہزار مخلوق ہونے سے کنارہ کش ہوں ہم تو آپ کو بندہ خدا بنا کر چھوڑیں گے آپ کب تک بھاگیں گے اور کدھر بھاگیں گے اور کہاں جائیں گے بھلا اس تقریر سے جو مقولہ متذکرہ بالا میں آپ نے کی ہے کونسا اثر ہمارے اعتراض پر پڑا بجز اس کے کہ آپ اپنے ہی قول سے آپ ہی قائل ہو گئے کہ جن چیزوں میں انتظام اور کاریگری اور تعلقات ضرور یہ پائے جاتے ہیں وہ خود بخود نہیں ہوسکتیں پس دیکھوا جزاء لا تجوری میں جن کو ہندی میں پر کرتی کہتے ہیں خاصیت کشش اتصال پائی جاتی ہے تب ہی تو بجر قسر قاسر کسی جسم کے اجزائے متفرق نہیں ہو سکتے اور کشش اتصال تعلقات ضروریہ کی جڑ ہے۔ کیونکہ اگر جز لا تجری یعنی پر کرتی میں قوت کششِ اتصال نہ پائی جاتی تو پھر جسم کے اجزاء میں باہمی تعلقات پیدا ہونا اور بعض جزوں کا بعض سے مل جانا اور ملے رہنا ممتنع اور محال ہوتا۔ اور روحوں کے وجود میں جس قدر صنعت صانع اور کاری گری پائی جاتی ہے وہ تو ہم کسی قدر بیان کر چکے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ کسی موقع پر بیان کریں گے اور جیسے خدائے تعالیٰ نے اجزاء لا تجری میں کشش اتصال رکھی ہے ایسا ہی روحوں میں قبولیت تعلق جسم کے لئے ایک قوت اور استعداد رکھی ہے یعنی روحوں میں بھی اجسام کی کشش اتصال کی طرح قبولیت تعلق جسم کی ایک قوت پائی جاتی ہے جس سے وہ بلا نفرت و کراہت جسم سے ایسے طبعی طور پر تعلق پکڑ لیتے ہیں جیسے ایک محب اپنے محبوب سے یا ایک عاشق اپنے معشوق سے تعلق پکڑ لیتا ہے جس تعلق کا صدمہ موت سے چھوڑنا اور مفارقت اختیار کرنا ان پر