سُرمہ چشم آریہ — Page 221
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۹ سرمه چشم آرید دعووں کو دلیل کے محل پر استعمال نہ کرے۔ بھلا خیال فرماویں کہ میرے اعتراض کے (۱۶) جواب میں جو آپ نے لکھا ہے کہ گوارواح واجزاء صغار اجسام یعنی جیو اور پر کرتی اور ان کے تمام خواص اور تمام کاریگری کی باتیں جو ان میں پائی جاتی ہیں وید کے رو سے سب غیر مخلوق اور انا دی ہیں جن کو پر میشر کا ہاتھ بھی نہیں لگا مگر تا ہم فقط جوڑ نے جاڑ نے سے پر میشر کا پر میترین ثابت ہوتا ہے یہ کس قسم کی تقریر ہے اگر اس کو قوانین استدلال کی طرف رد کیا جائے تو کون سی شکل صحیح منطقی اس سے پیدا ہوسکتی ہے اگر کچھ یاد ہے تو بھلا پیش تو کریں۔ ماسٹر صاحب آپ کو یہ بات بُری نہ لگے آپ مدلل غیر مدلل کی شناخت سے بکلی بے خبر ہیں آپ کے منہ سے کوئی معقول بات کیا خاک امید رکھیں آپ تو خواہ نخواہ اپنی قوم کو شرمندہ کر رہے ہیں تو ہم ہی روحوں کے مخلوق ہونے پر شکل اول جو بد یہی الانتاج ہے بنا کر سناتے ہیں اس پر غور کرو اور اپنے بے جا دعووں سے باز آؤ اور وہ شکل یہ ہے۔ موجودات عالم میں سے روحیں ایسی چیزیں ہیں جن میں ہزار ہا عجائب قدرت و حکمت پائے جاتے ہیں اور کل ایسی چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جن میں عجائب قدرت و حکمت پائے جائیں ان کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے نتیجہ یہ نکلا کہ روحوں کا ایک موجد قا در وکامل و حکیم ہونا ضروری ہے۔ ثبوت مفہوم صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ موجودات عالم میں سے روحیں ایسی چیزیں ہیں جن میں ہزار ہا عجائب قدرت و حکمت پائے جاتے ہیں اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنی یہ کہ روحوں میں کوئی اُعجوبہ حکمت و قدرت کا نہیں پایا جا تا بدیہی البطلان ہے اور دنیا کی ذی علم قوموں میں سے کوئی قوم بھی اس بات کی قائل نہیں کہ ارواح عجائبات قدرت و صنعت الہی سے خالی ہیں بلکہ علم الہیات کے جاننے والے اس بار یک صداقت تک پہنچ گئے ہیں کہ دنیا کی تمام مخلوقات میں جو خواص متفرقہ ہیں وہ سب روحوں کے وجود