سُرمہ چشم آریہ — Page 201
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۹ سرمه چشم آریہ گائے بنے اور دکھ درداٹھانے کی اس کو یاد دلا دیتا تا وہ پھر کبھی ایسا برا کام نہ کرتی۔ سو (۱۳۱) جبکہ پر میشر نے ایسی سخت سزا تو دی مگر کبھی ایک دفعہ ایسا نہ کیا کہ گائے کو زبان گویائی دیتا یا اسے آدمی کی جون میں آنے کے بعد اس پہلی پر مصیبت جون کی اطلاع کر دیتا تو یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اب تک گائے کی جون کا انسداد نہیں ہوا بلکہ اس گناہ کے نا معلوم رہنے کی وجہ سے اس حیوان کی نسل نے ایسی ترقی کی ہے کہ کروڑہا گائیں زمین پر پھیل گئی ہیں ۔ اگر پر میشر سے یہ بد انتظامی ظہور میں نہ آتی تو اس نابکار حیوان کی اس قدر ترقی کیوں ہوتی بلکہ گائیوں کا زمین پر نام ونشان نہ رہتا مگر اب بھی اس منحوس جون کے کاٹنے کے لئے ایک عمدہ تجویز خیال میں گزرتی ہے اگر آریہ صاحبان اس کو پسند کر لیں تو ان کی کوشش سے یہ لائق رحم برہمنی اس منحوس جون سے مخلصی پاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کی تمام گائیوں اور بیلوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر کے ایک ہی دفعہ کسی تدبیر سے اس جہان فانی سے زاویہ عدم میں بھیجا جاوے اگر پھر بھی ہندوؤں کا پر میشر کسی برہمنی کو ایسی سخت سزا دینے کی جرات کرے تو اس کے ہم ذمہ وار ہیں بشرطیکہ کسی اور ملک سے کوئی جوڑہ بیل اور گائے کا جدید طور پر نسل جاری کرنے کے لئے منگوایا نہ جاوے کیونکہ اگر آریہ صاحبان ایسا کریں تو گویا پھر خودان کی مرضی ہے کہ اس منحوس جون سے کبھی برہمنوں کو نجات نہ ملے ۔ غرض ہم نے ایک نسخہ بتا دیا ہے آئندہ اس کا کرنا نہ کرنا آریہ صاحبوں کے اختیار میں ہے۔ اب ذرا عقلمند آریوں کو شرمندہ ہونا چاہیے کہ ان کے وید کی فلاسفی نے کس درجہ کے مجنونانہ خیالات تک ان کو پہنچا دیا ہے کیا ویدودریا کی یہی تعلیم ہے کہ اول ایک حیوان کو بلا دلیل و حجت ایک فاسقہ عورت قرار دینا اور پھر اسی پلید اور نابکار جانور کے دودھ پینے کے لئے رغبت دلانا۔ اے بھائیو آر یو خدا تمہیں سمجھ اور ہدایت بخشے تمہیں ذرہ غیظ اور غضب کو الگ کر کے سوچنا چاہئے اور عالمانہ اعتراض کا عالمانہ جواب دینا چاہیے کہ اگر حقیقت