سُرمہ چشم آریہ — Page 202
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۰ سرمه چشم آرید ۱۴۲ میں گائے ایک نابکار اور سزا یافتہ عورت ہے تو یہ کیا بات ہے کہ اس کو متبرک اور قابل تعظیم سمجھا جائے بلکہ اس کی شکل دیکھنے سے بیزار ہونا چاہیے اور ڈرنا چاہیے اور دور سے تو بہ توبہ کرنا چاہیے نہ یہ کہ اس کو بابرکت خیال کر کے صبح اٹھ کر پہلے اسی کا درشن کریں اور مرنے کے وقت وہی برہمن کو بھی سنکلپ کر کے دی جائے اور اگر کسی آدم زاد کے ہاتھ سے اتفاقاً ایک ادنی از خم بھی اس کو پہنچ جائے تو جب تک اس آدمی کے ٹکڑہ ٹکڑہ نہ کر لیں صبر نہ آوے کیا آپ کے وید کا یہی فلسفہ ہے کیا وید و دیا اسی کا نام ہے کیا اسی مشیخیت سے مسلمانوں کے عوام پر آپ نے اعتراض کیا ہے کہ سورج اور چاند کی انہیں کیفیت معلوم نہیں بھلا آپ ایماناً بتلاویں کہ قانون انصاف کا جاننا اور سمجھنا زیادہ تر مقدم ہے یا چاند اور سورج کا۔ آپ کے وید کے مسائل ایسے ہیں کہ انہوں نے نہ آپ کے پر میشر کی کچھ عزت بحال رکھی اور نہ انسان اور حیوان کا فرق قائم رکھا اور نہ قانون انصاف میں سے آپ کو کوئی حرف پڑھایا۔ جہاں دیکھو بے انصافی ہے جس طرف نظر ڈالو ناحق پرستی پائی جاتی ہے اول خدائے تعالیٰ کو خالق اور رحیم اور کریم ہونے سے جواب دیا پھر اس کے بندوں کو ہمیشہ کی نجات سے محروم رکھا الہام کو خواہ نخواہ چار رشیوں میں محدود کر دیا الہامی کتاب کا نازل ہونا اسے آریہ دلیس کا حق ٹھہرایا گیا۔ سنسکرت پر میٹر کی زبان مقرر کی گئی تمام مجاہدین اور عابدین کو خواہ وہ کیسے اخلاص سے ہی عبادت و بندگی کریں ان چار وید کے رشیوں کی طرح ملہم اور عارف باللہ ہونے سے ہمیشہ کے لئے جواب دیا گیا کیا یہ باتیں قانون انصاف سے نکلی ہیں۔ کیا ان تعلیموں کا بانی مبانی منصف مزاج کہلا سکتا ہے ۔ کیا کسی عظمند کے نزدیک یہ بات شان فیاضی الہی سے مناسبت رکھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے اپنی نبوت اور الہام یابی کا آریہ دیس کے چار رشیوں کو ہی ٹھیکہ دے رکھے اور باقی تمام بندگان خدا اس کے وسیع اور آباد ملکوں کے ہمیشہ کے لئے اس سے محروم رہیں سو جس کتاب نے قانون انصاف یہ بتلایا ہے اس سے دوسری صداقتوں کی کیا امید رکھیں ۔ تمام عارفوں کے نزدیک سورج چاند