سُرمہ چشم آریہ — Page 200
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۸ سرمه چشم آرید ۱۲۰ قدرت بید پوران کتیاں قدرت سرب بیچار۔ بھنے بید پوران شاستر سب خدا کا کلام ہی ہے سو وہ لوگ جو سکھ ہو کر آریہ سماج میں داخل ہیں اور دو دو ہاتھ کے برابر کیس سر پر رکھے ہوئے ہیں ان پر تو واجب ہے کہ اپنے گورونانک صاحب کے شہد پر عمل کر کے سب پورانوں کو ایشر کا کلام ہی سمجھیں۔ غرض جب منوسمرت اور پرانوں کے رو سے ایسی عزت اور ایسے حقوق برہمن کو حاصل ہیں تو پھر در حقیقت ہندوؤں کے پر میشر نے بہت بے جا کام کیا کہ ایک برہمنی کو ایک ادنی گناہ سے سخت سزا دے دی۔ در حقیقت ایسی سخت سزا دینے سے پر میشر کی عدالت پر بڑا دھبہ لگتا ہے کہ اس نے ایسی سنگین اور سخت سزا دی کہ غریب برہمنی کو اپنی اصلی صورت سے مسخ کر کے قیدیوں کی طرح سخت اور خود غرض لوگوں کے حوالہ کر دیا۔ جن میں سے کوئی تو اس کے بچہ کو بھوکا چھوڑ کر اس کا دودھ پی جاتا ہے اور کوئی اس کی ہڈیوں اور چمڑہ کے فکر میں رہتا ہے اور کوئی اس کے بچوں پر جوار کھ کر دن رات ان کی جان کو مارتا ہے اور کوئی بار برداری سے ان کو ریش اور مجروح کرتا ہے غرض کوئی کسی طرح سے اور کوئی کسی طرح سے ان پر ظلم کرتا ہے۔ یاں تک کہ خود آریہ لوگ بھی اس پر رحم نہیں کرتے اور غلاموں کی طرح اس کی خرید اور فروخت جاری رکھتے ہیں اور ہمیشہ قید رکھ کر سختی پر سختی کرتے رہتے ہیں۔ سوا گر گائے کے ان پر درد واقعات کو بمقابل جنگلی چرندوں اور پرندوں کے دیکھا جائے یا دریا کے جانوروں کے مقابل پر وزن کیا جائے تو حقیقت میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پر میشر نے گائے کو بڑی سخت سزا دی ہے اور اگر یہ کہو کہ پر میٹر نے اس لئے یہ سخت سزا دی کہ تا آئندہ کوئی برہمنی ایسا بُرا کام نہ کرے تو یہ جواب بھی پوچ ہے کیونکہ اگر پر میشر کا یہی مطلب ہوتا تو گائے کو انسان کی طرح زبان گویائی دیتا تا وہ برہمنوں کے گھر جا کر اپنی بہنوں کو سمجھاتی کہ اے بہنو! میرا حال دیکھو اگر تم ایسا کروگی تو تم بھی ایسا ہی پاؤ گی یا ایسا کرتا کہ پھر جب کبھی گائے آدمی کی جون میں آجاتی تو وہ تمام مصیبتیں