سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 199

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۷ سرمه چشم آریہ حکومت میں بہائے گئے تھے اسی طرح ان ظالم سرداروں کا نام ونشان بھی نہ رہا اور آخر ۱۳۹۶ ) ان کے خونوں سے بھی زمین سرخ ہو گئی اور گائے پر بھی جو کچھ بہ غضب الہی وارد ہوا اور اب تک ہمیشہ کے لئے وارد ہو رہا ہے اس کے بیان کرنے کی تو کچھ حاجت ہی نہیں۔ تا دل مردان حق نامد بدرد + بیچ قومی را خدا رسوا نہ کر د۔ اب دیکھو کہ ایک لا یعقل حیوان کو انسان سے بہتر جاننا اور پہلے آپ ہی اس حیوان کو ایک فاسقہ عورت کی بگڑی ہوئی جون قرار دینا اور پھر اس کی ایسی عزت کرنا کہ اس کے ادنی زخم پر ہزار ہا انسانوں کے خون کرنے کو تیار ہو جانا یہ کس قسم کی فلاسفی ہے۔ اگر تلاش کرو تو تمام دنیا میں ایسا وحشیانہ جوش ایک حیوان کے لئے کسی قوم میں ہر گز پایا نہیں جائے گا جیسا کہ ہندوؤں کو گائے کے لئے ہے۔ بعض متعصب برہمنوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اصل میں گائے کا جرم تو خفیف ہی تھا مگر پر میشر نے اس کو کسی مصلحت سے سخت سزا دے دی ۔ شاید یہ پردہ پوشی اور پرمیشر کو ظالم ٹھہرانا اس خیال سے ہے کہ ان کے مجنونانہ زعم میں گائے دراصل انہیں کی بہن یعنی برہمنی ہے اور برہمن ویدوں کے رو سے ایک ایسی چیدہ قوم ہے کہ کئی قسم کے گناہ بھی ان کو معاف ہیں اور اگر کوئی شودر ہو کر برہمن کی نسبت کوئی بُرا لفظ کہے تو منوسمرت میں لکھا ہے کہ اس کی زبان چھید نی چاہیے اور اگر ہندوؤں میں سے بجز برہمن کسی دوسری قوم کا آدمی بے اولاد ہو تو شاستروں کا حکم ہے کہ اپنی عورت کو برہمن کے پاس بھیج دے اور وہ اس سے ہم صحبت ہو کر اس کے حاملہ ہو جانے کا فکر کرے گا ۔ایسا ہی قریب بتیس کے عجیب عجیب حقوق برہمنوں کے ہیں جن کو شاستروں نے کھیوٹ بندو بست کی طرح برہمنوں کے لئے قائم کر رکھا ہے چنانچہ منو شاستر اور دوسرے شاستروں کے پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور برہمنوں کا دعوی ہے کہ یہ سب باتیں وید سے لی گئیں ہیں اور وید میں درج ہیں اور باوانا تک صاحب تو سب پورانوں اور شاستروں کو دید کی طرح ایشر کرت ہی یعنی خدا کا کلام ہی جانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے گرنتھ میں لکھتے ہیں۔