سُرمہ چشم آریہ — Page 198
روحانی خزائن جلد ۲ ΔΥ سرمه چشم آرید ۱۳۸ کے خیالات میں کس قدر تعظیم و تکریم جمی ہوئی ہے کہ گویا اسی کی دم پکڑ کر پار ہو جانا ہے۔ یاں تک اس کی بزرگی تسلیم کی جاتی ہے کہ اس کے عوض میں کسی انسان کا خون کرنا ان کے نزدیک کچھ بھی گناہ نہیں بلکہ ثواب کی بات ہے اگر چہ ایسی ایسی حرکات کبھی کبھی اب بھی ہندو لوگ شوخی کی راہ سے کر بیٹھتے ہیں چنانچہ کوکوں کا ہمقام امرتسر کئی قصابوں کو بے رحمی سے قتل کرنا ایک ایسا تازہ واقعہ ہے جس میں کچھ زیادہ مدت نہیں گزری لیکن سکھوں کے عہد حکومت میں تو بڑے زور وشور سے بحکم حکام ایسی وارداتیں ہوتی تھیں ۔ سکھوں کا دور حکومت پنجاب میں پچاس برس کے اندر اندر شروع بھی ہوا اور ختم بھی ہو گیا اس زمانہ کی تحریروں اور واقف کاروں کے بیانات تائیدی سے یہ پُر درد ماجرا معلوم ہوتا ہے کہ اس حیوان کے کسی اتفاقی زخم لگ جانے پر یا کبھی کبھی کسی فاقہ کش کے ہاتھ سے ذبح کئے جانے پر چار ہزار سے کچھ زیادہ مسلمان متفرق مقامات اور دفعات میں زمانہ عملداری سکھوں میں نہایت دردانگیز اور بے رحمی کے طریقوں سے قتل کئے گئے اور جلائے گئے اور پھانسی دیئے گئے اور اس سکھاں شاہی میں ہمیشہ اس منحوس جانور کی حمایت میں ہندوؤں سے ایسی ایسی ہی ظالمانہ حرکتیں ہوتی رہیں یاں تک کہ آخر مظلوموں کی فریاد جناب الہی میں سنی گئی اور اس جانور اور اس کے حامیوں پر منعم حقیقی کا غضب بھڑ کا اور اس نے عنان حکومت ہمیشہ کے لئے ہر یک زمان و مکان سے ان کے ہاتھ سے چھین لی اور ایک ایسی مہذب قوم کو ابر رحمت کی طرح دور سے لایا جس میں انسان اور حیوان میں فرق کرنے کی لیاقتیں موجود تھیں اور جس کو قابلیت رعیت پروری و ملک داری و قدر شناسی اشرف المخلوقات حاصل تھی اس قوم فاتح اور قابلِ شکر ( یعنی گورنمنٹ برطانیہ ) کی حکومت پنجاب میں قائم ہونے سے سب مسلمان اس عذاب سے رہائی پاگئے کہ جو بنی اسرائیل کی طرح ایک مدت مدید سے سکھوں اور ہندوؤں کے ہاتھ سے اٹھاتے تھے اور وہ ہزار ہا شریف انسانوں کے خون جو اس ایک حیوان کے عوض میں اس پر ظلم