سُرمہ چشم آریہ — Page 194
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۲ سرمه چشم آریہ ۱۳۳ با علم بھائی خاموش رہے اور مجھ کو بوعدہ مقابلہ ایسے رسالہ کی تالیف کے لئے تحریک نہ کی تو پھر تمام ناظرین کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی سب آوازیں طبل تہی ہیں اور صادقوں کے طریق پر وہ چلنا چاہتے ہی نہیں۔ بھلا یہ کیا او با شانہ طریق ہے اوّل خدائے تعالیٰ کی پاک کلام اور اس کے کامل نبی کی نسبت ہتک اور توہین کے کلمات مونہہ پر لائیں اور جب مقابلہ وید و قرآن کے لئے کہا جائے تو پھر ایسے چپ ہوں کہ گویا دنیا سے کوچ کر گئے۔ ناظرین بقيه سیکنڈ میں دس دس نہیں ہیں تمہیں تمہیں اس کے اندر سے نکلتے جاتے ہیں کیا یہ عقل کے حاشیه بر خلاف ہے یا نہیں کہ مادہ اور نر دونوں نوع واحد میں داخل ہوں اور ان کے بچے ایسے ہوں کہ اس نوع سے بکلی خارج ہوں ۔ ایسا ہی اگر چھپکلی کو (جس کو پنجاب میں کرلی کہتے ہیں ) درمیان سے کاٹا جائے تو اس کا نیچے اور اوپر کا دھڑ دونوں الگ الگ تڑپتے ہیں اور مضطر رہا نہ حرکت کرتے ہیں اگر بقول پنڈت دیانند صاحب روح بھی جسم کی قسم ہے تو اس سے ضرور لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہو گیا ہو اور اگر روح کو جسم اور جسمانی ہونے سے منزہ خیال کریں اور اس کا تعلق جسم سے ایسا ہی مجہول المکیفیت و برتر از عقل و فہم خیال کریں جیسے روح کا حدوث برتر از عقل و فہم ہے تو پھر البتہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا ۔ ہاں پنڈت دیا نند کا مذ ہب جڑھ سے اکھڑتا ہے۔ اسی طرح عقلمندوں کی عقل ناقص کی تراش و خراش پر بہت اعتراض اٹھتے ہیں اور ان کو آخر کا ر نہایت شرمساری سے مونہہ کے بل گر نا پڑتا ہے اور پھر انجام کار بہت خوار اور ذلیل ہو کر اسی بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی بے انتہا عجیب و غریب قدرتوں کا احاطہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ ہر چہ دانا کند کند نادان لیک بعد از کمال رسوائی منه