سُرمہ چشم آریہ — Page 193
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۱ سرمه چشم آرید فریق مخالف کی تسلی خاطر کے لئے پہلے ہی کسی فاضل بر ہمو صا حب کے پاس (۱۳۳) جیسے با بونو بین چندر رائے صاحب و پنڈت شیو نارائن صاحب اگنی ہوتری ہیں بطور امانت جمع کرایا جائے گا اور انہیں اختیا ر ہوگا کہ اگر وہ اپنی رائے میں دیکھیں کہ حقیقت میں آریہ صاحب نے وید کا مقابلہ کر دکھایا تو خود بخود بغیر اجازت ایک جانب وہ روپیہ اس آریہ صاحب کے حوالہ کر دیں لیکن اگر اس مضمون کو پڑھ کر پھر بھی ماسٹر صاحب یا ان کے کوئی دوسرے کے ذریعہ سے ہر گز ذہن نشین نہیں ہو سکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں ۱۳۳ ) بقيه حاشیه پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سنتا ہی نہایت تکبر سے کہے گا کہ یہ سرا سرا مر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغگو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور بہ باعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ امور جن کی صداقت پر ہزار ہا عارف و راستباز اپنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں۔ اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کر دینے کے لئے بفضلہ تعالی اپنی ذمہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہو سکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم معقل ہے یعنی جس عالم تک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرار الہی پر وہ غیب میں دبے پڑے ہیں جن کی عقلمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی ۔ ایک فصلی لکھی جو پلید اور نا پاک زخموں پر بیٹھتی ہے اور اکثر گدھے یا بیل وغیرہ جو زخمی اور مجروح ہوں ان کو ستاتی ہے اس کے اس عجیب خاصہ پر کوئی فلسفی دلیل عقلی نہیں بتلا سکتا کہ وہ اکثر برسات میں تکون کے طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی اولا دصرف کیڑے ہوتے ہیں کہ جو ایک ایک