سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 195

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۳ سرمه چشم آریہ سوچ لیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا صفائی کی بات ہوگی کہ ہم مغلوب ہونے کی حالت ۱۳۵ میں سو روپیہ نقد دینا وعدہ کرتے ہیں اور غالب ہونے کی حالت میں ہم کچھ بھی نہیں مانگتے صرف یہ امید رکھتے ہیں کہ کوئی روح بے راہی کے طریق سے نادم ہو کر سچائی کا طریق اختیار کرے۔ سو اب ہم منتظر رہیں گے کہ کب لالہ مرلید ھر صاحب یا ان کے کوئی اور آریہ بھائی جو اپنی قوم میں امتیاز علمی رکھتے ہوں ایسی درخواست کریں گے۔ تاسیہ روئے شود ہر کہ در ونفش باشد قوله ۔ اسی طرح اسلام نے مادہ کی کیفیت کو بھی نہیں سمجھا اور نہ مادی دنیا کو ہی معلوم کیا کہ زمین و سورج و چاند وغیرہ کیا بستو ہیں زمین جو کہ کرہ ہے اس کی حقیقت اور گردش و کشش وغیرہ جو ہے ان سب کے خلاف ہے سارے مسائل اسلام کے ہیں۔ اقول ۔ آپ اس خیال پر اختلال میں بھی سراسر غلطی پر ہیں اور یہ آپ کا قول بالکل جھوٹ اور افتر ایا بے خبری یا بے علمی کا تقاضا ہے جو آپ تعلیم قرآنی کی نسبت ایسا خیال کر رہے ہیں بلکہ تعلیم قرآنی میں جیسی واقعی اور حقانی طور پر کیفیت روح اور اس کے خواص بیان کئے گئے ہیں ایسا ہی زمین و سورج وچاند و غیرہ مادی اشیا کی نسبت قرآن شریف میں صحیح صحیح اور واقعی بیان مندرج ہے اور ایسے بلند و عمیق اسرار طبعی و هیئت و طبابت و دیگر لطائف فلسفہ اس میں پائے جاتے ہیں جن کی طرف کسی حکیم یا فلسفی کا ذہن سبقت نہیں لے گیا۔ اگر آپ اس میں بھی کچھ آزمائش کرنا چاہیں تو حسب تحریک آپ کے ہم ایک ہی رسالہ میں جیسا کہ قول گزشتہ میں ہم وعدہ کر چکے ہیں بمراد مقابلہ وید و قرآن یہ دونوں طور کے مسائل یعنی مسائل علم روح و مسائل علم اشیائے مادی قرآن شریف سے لے کر بیان کر سکتے ہیں مگر اسی شرط متذکرہ بالا کے رو سے یعنی یہ کہ جس طرح ہم اپنے بیان میں قرآن شریف سے باہر نہ جائیں ایسا ہی بمقابل ہمارے آپ بھی کر دکھائیں اور آپ یا د رکھیں کہ آپ کی ساری باتیں فضول اور نری دعوی ہی دعوئی ہیں ورنہ وید تو خالق اور مخلوق میں بھی فرق نہیں کر سکا پھر دوسری صداقتیں کیا بیان کرے گا۔ ایک وید کا