سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 189

روحانی خزائن جلد ۲ 122 سرمه چشم آرید سوچیں تو جتنا شرمندہ ہوں اتنا ہی تھوڑا ہے اسی وجہ سے تو ہم نے آپ کو ایک خاموش ۱۳۹۶ کے درولیش کا قصہ سنایا اگر آپ ایسے ایسے فضول اور خام شبہات کے پیش کرنے سے زبان بند رکھتے تو ہمیں آپ کی حیثیت علمی پر وہ شک نہ پڑتا جواب پڑ گیا ہے۔ بالآخر ہم یہ بھی لکھا چاہتے ہیں کہ اگر ماسٹر صاحب کے دل میں یہ خیال ہے کہ قرآن شریف میں علم روح بیان نہیں کیا گیا اور وید میں بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیفیت روح سے بقيه حاشیه اور طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے ۔ غرض عقلمند (۱۲۹) لوگ عالم کشف کے عجائبات سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس جواد مطلق نے عالم اول کے ادنی اونی امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس وطاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالی شان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلق خدائے تعالی سے پیدا ہوتا ہے اور کچی اور یقینی معرفت حاصل ہو کر اسی دنیا میں انوار نجات نمایاں ہو جاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتا بے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہا ہیں اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش ۔ اس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بکلی منکشف ہو جا ئیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کر کے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابل رؤیت چیزوں کو قوت شامہ کے ذریعہ سے دیکھ لے بلکہ عجائبات عالم باطن در باطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مارسکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔ روحوں کی پیدائش