سُرمہ چشم آریہ — Page 190
روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید بقيه حاشیه کچھ خبر نہ تھی مگر وید کے چاروں رشیوں کو خبر تھی تو اس بات کا تصفیہ نہایت سہل اور آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ ماسٹر صاحب مقابلہ کرنے کے عہد پر ہم کو اجازت دیں تا ہم علم روح کو جو قرآن شریف میں لکھا ہے جس سے معرفت کا ملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم و کمالیت قرآن شریف ثابت ہوتی ہے ایک مستقل رسالہ میں مرتب کر کے بحوالہ آیات قرآنی شائع کر دیں اور جب یہ رسالہ ہماری طرف سے چھپ کر شائع ہو جائے تو اس وقت ماسٹر صاحب پر انسان کیوں تعجب کرے اسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی گنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات صاحب کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باؤ نہ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوئی ہے۔ بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گزشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات ہر یک نیک بخت روح یا بد بخت روح کے کشف قبور کے طور پر ہوسکتی ہے چنانچہ خود اس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجربہ ہے اور یہ امر ہندوؤں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوت تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر باوجو دصد ہا کوسوں کے فاصلہ کے باز نہ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہو جاتا ہے حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دو جگہ ہونا محال ہے سو وہ محال اس عالم ثالث میں ممکن الوقوع ہو جاتا ہے اسی طرح صد ہا عجائبات کو عارف