سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 188

۱۳۸ روحانی خزائن جلد ۲ بقيه حاشیه سرمه چشم آرید (۱۲۸) ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہے اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ یعنی بساط کا عدم محض سے پیدا کرنا اور مرکبات کو ظہور خاص میں لانا دونوں خدا کا فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے تعالیٰ کی پیدائش ہے اب ماسٹر صاحب ! دیکھا کہ یہ کیسی اعلیٰ اور عمدہ صداقت ہے جس کو ایک مختصر آیت اور چند معد و دلفظوں میں خدائے تعالیٰ نے ادا کر دیا۔ اس کے مقابلہ پر اگر آپ وید کے عقیدہ کو تیرے عالم کے دریافت کرنے کے لئے بھی اس فیاض مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں یکھی بند اور موقوف نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے شرائط بجالانے والے ہمیشہ اس کو پاتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے چونکہ انسان ترقیات غیر محدودہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدائے تعالیٰ بھی عیب بخل و امساک سے بکلی پاک ہے۔ پس اس قوی دلیل سے ایسا خیال بڑا نا پاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیسرے عالم کے وسائل وصول سے بکھی اس کو محروم رکھا ہے۔ پس یہ وہ دلیل ہے جس سے دانشمند لوگ دائمی طور پر الہام اور کشف کی ضرورت کو یقین کر لیتے ہیں اور آریوں کی طرح چار رشیوں پر الہام کو ختم نہیں کرتے جن کی مانند کوئی پانچواں اس کمال تک پہنچنا ان کی نظر عجیب میں ممکن ہی نہیں بلکہ عقلمند لوگ خدائے تعالیٰ کے فیاض مطلق ہونے پر ایمان لاکر الہامی دروازوں کو ہمیشہ کھلا سمجھتے ہیں اور کسی ولایت اور ملک سے اس کو مخصوص نہیں رکھتے ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل الاعراف : ۵۵ ہوتے ہیں کیونکہ ہر یک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہیں قواعد