سُرمہ چشم آریہ — Page 163
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۱ سرمه چشم آریہ اور بڑی ذلت اور رسوائی سے بقول شخصے کہ ( پا بدست دگرے دست بدست دگرے) (۱۰۳) ملکتی خانہ سے باہر پھینکے جائیں گے تو کیا اس وقت ان کے لئے وہ سرگ نرگ کا نمونہ بلکہ اس سے بدتر نہیں ہو جائے گا تو پھر اس مجبورانہ مصیبت کے وقت خود مختاری کہاں رہے گی اور انند کیسا ہو گا آپ کہتے ہیں کہ نجات شدہ لوگ بڑی خوشی اور انند میں رہیں گے افسوس ہے آپ کی سمجھ پر ۔ کیا ایسے مقام میں بھی کوئی کامل خوشی میسر آ سکتی ہے جس میں نکالے جانے اور پھر دو ہری مرتبہ کروڑ ہا برسوں کی مصیبتوں کا دغدغہ در پیش ہے اور ہر دم یہی فکر جان کو کھا رہا ہے کہ اب تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار ذلتوں اور رسوائیوں کا مونہہ دیکھنا ہوگا۔ پھر کیڑے مکوڑے کتے بلے بننا ہوگا۔ پھر ایک گناہ کے بدلے میں لاکھوں جو نہیں بھگتنی ہوں گی اور زمانہ دراز اور مدت غیر معین تک دکھوں دردوں کو اٹھانا ہوگا۔ کیا جس کو اس قدر یقینی اور قطعی طور پر غم در پیش ہے اور غم بھی کیسا غم کہ لا علاج ۔ وہ بھی خوش رہ سکتا ہے سو آپ کسی مونہہ سے کہہ سکتے ہیں کہ جس مکتی خانہ کا وید نے ذکر کیا ہے وہ بڑی انند اور خود مختاری اور خوشی کی جگہ ہے آپ کے مکتی خانہ سے خدا کی پناہ اگر ایسا ہی پر میشر اور ایسا ہی اس کا مکتی خانہ ہے تو پھر بد قسمت زاہدوں عابدوں کے لئے اس جگہ بھی رونا اور اُس جگہ بھی رونا ہی ہوگا۔ رہا آپ کا یہ اعتراض کہ مسلمانوں کی بہشت میں دنیوی نعمتیں بھی موجود ہوں گی تو یہ کچھ اعتراض کی بات نہیں بلکہ اس سے تو آپ کو اور آپ کے پرمیشر کو بہت شرمندہ ہونا چاہیے کیونکہ مسلمانوں کے خداوند قادر اور غنی مطلق نے تو دائمی اور جاودانی طور پر سب کچھ اپنے بے انتہا خزانوں سے عالم آخرت میں قرآن شریف پر ایمان لانے والوں کو عطا کیا ہے اور روحانی اور جسمانی دونوں طور کی نعمتیں مرحمت فرمائیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے بچے پرستار اس دنیا میں صرف روح ہی سے اس کی بندگی اور اطاعت نہیں کرتے بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتے ہیں اور خلقت انسانی کا کمال