سُرمہ چشم آریہ — Page 164
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۲ سرمه چشم آرید (۱۰۴) صرف روح ہی سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ روح اور جسم دونوں کے امتزاج و اختلاط سے پیدا ہوتا ہے سو اس نے فرمان برداروں کو سعادت تامہ تک پہنچانے کے لئے اور ان کو پورا پورا اجر دینے کے لئے نجات جاودانی کی لذات کو دو قسم پر مشتمل کیا۔ اپنے محبوبانہ دیدار کی لذتیں بھی دیں اور اپنی دوسری نعمتیں بھی بارش کی طرح ان پر برسائیں ۔ غرض وہ کام کر دکھلایا جو اس قادر عظیم الشان کی قدرتوں اور عظمتوں اور بے انتہا رحمتوں کے لائق ہے لیکن آپ کا پر میشر تو مفلس اور دیوالیہ ہی نکلا اور اپنی عاجزی اور درویشی اور مفلسی اور ناطاقتی اور بے اختیاری کے باعث سے آپ لوگوں کو کسی ٹھکانہ نہ لگا سکا اور نہ کوئی مستقل خوشی پہنچا سکا۔ غرض کچھ بھی نہ کر سکا نہ روحانی نعمتیں ہمیشہ کے لئے دے سکا نہ جسمانی ۔ اور دونوں طور سے آپ کو نا کام اور نا مراد اور محروم اور بے نصیب رکھا اور جس کے لئے مرتے تھے اور جان شاری کرتے تھے وہ ایسا نا منصف اور بے سمجھ اور مور کچھ اور بے خبر نکلا کہ اس نے تمہاری روحانی اور بدنی مشقتوں کا کچھ بھی قدر نہ کیا اور اپنی الٹی سمجھ سے عاشقانہ وفاداریوں اور جان شاریوں کو چند روزہ مزدوری خیال کر لیا۔ کیا ایسے بخیل اور نا طاقت اور بے سمجھ پر میشر سے محبتیں بڑھ سکتی ہیں اور صفائی کامل سے کوئی دل رجوع ہوسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ اس کی قدرت اور سخاوت اور قدرشناسی کی حقیقت کھلنے سے جب تپ کرنے والوں کی روحیں بہت ہی افسوس ناک اور نادم ہوں گی کہ اگر یہی پر میشر اور یہی اس کی مکتی تھی تو ہم نے خواہ مخواہ کی ٹکریں کیوں ماریں اور مکتی خانہ سے نکالے جانے کے وقت ضرور مضمون اس شعر کارو روکر پڑھتے ہوں گے۔ اب تو کچھ سمجھ کے جان تجھ پہ کریں گے قربان ہم تو اس روز کو پچھتاتے ہیں جب دل ہی دیا سوخدائی کے کام وہ ہیں نہ یہ اور چارہ سازی اور بندہ نوازی اس کو کہتے ہیں نہ اس کو ۔ به بین تفاوت راہ از کجاست تا یکجا ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ وید کے رو سے اس ناکارہ اور ناقص مکتی کا ملنا بھی آپ لوگوں کے لئے محال ہے اور آپ کے پرمیشر نے محض ٹالنے کی