سُرمہ چشم آریہ — Page 137
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۵ سرمه چشم آرید کیوں نہیں لکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معمولی درویش یا گوشہ نشین نہیں تھے تا یہ ﴾ عذر پیش کیا جائے کہ ایک فقیر صلح مشرب جس نے دوسرے مذاہب پر کچھ حملہ نہیں کیا چشم پوشی کے لائق تھا بلکہ آں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عام مخالفین کا جہنمی ہونا بیان کرتے تھے اس صورت میں مطلق طور پر جوش پیدا ہونے کے موجبات موجود تھے۔ ماسوا اس کے یہ بھی کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ واقعہ شق القمر پر جو چند سیکنڈ سے کچھ زیادہ نہیں تھا ہر یک ولایت کے لوگ اطلاع پا جائیں کیونکہ مختلف ملکوں میں دن رات کا قدرتی تفاوت اور کسی جگہ مطلع ناصاف اور پر غبار ہونا اور کسی جگہ ابر ہونا ایسا ہی کئی اور ایک موجبات عدم رؤیت ہو جاتے ہیں اور نیز بالطبع انسان کی طبیعت اور عادت اس کے برعکس واقع ہوئی ہے کہ ہر وقت آسمان کی طرف نظر لگائے رکھے بالخصوص رات کے بقیه پر روحوں کے باہم ملنے سے طیار ہو گیا ہو اور دیکھنے اور ٹولنے میں آسکتا ہو۔ سو یہ دیانند حاشیه صاحب کا پوچ خیال ہے کہ روح بھی پر مانو ہی ہے۔ ماسوا اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جز لا ينجزی دلائل عقلیہ اور ہندسیہ سے باطل ہے اور اس کے ابطال پر ایک آسان دلیل یہ ہے کہ اگر جز لا یتجزی یعنی پر مانو (پر کرتی ) کو دو چیزوں کے درمیان رکھا جائے تو ضرور ہے کہ وہ دونوں چیزیں اطراف مخالف سے اس کو مس کریں گی اور یہ امر تقسیم کو ثابت کرنے والا ہے۔ دوسرے یہ کہ نقطہ یہی جز لا يتجزی ہے اور بموجب اصول موضوعہ علم ہندسہ کے ہم کو اختیار ہے کہ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک خط مستقیم کھینچ لیں مثلا ہم مختار ہیں کہ نقاط ( اور ب میں )۔۔۔۔ سب ایک ایسا محط مستقیم کھینچ لیں جس کا کل مجموعہ گیاراں نقطے ہوں پھر بعد اس کے ہم یہ بھی اختیار رکھتے ہیں کہ بموجب شکل دہم مقالہ اولی تحریر اقلیدس اس خط محدود کی تنصیف کریں ۔ سوظاہر ہے