سُرمہ چشم آریہ — Page 136
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۴ سرمه چشم آریہ 1 کتابیں لکھتے اور دنیا میں شائع اور مشہور کرتے اور جبکہ ان لاکھوں آدمیوں عیسائیوں، عربوں، یہودیوں ، مجوسیوں وغیرہ میں سے رڈ لکھنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی اور جولوگ مسلمان تھے وہ علانیہ ہزاروں آدمیوں کے روبرو چشم دید گواہی دیتے رہے جن کی شہادتیں آج تک اس زمانہ کی کتابوں میں مندرج پائی جاتی ہیں تو یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ مخالفین ضرور شق القمر مشاہدہ کر چکے تھے اور رڈ لکھنے کے لئے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی تھی اور یہی بات تھی جس نے ان کو منکرانہ شور و غوغا سے چپ رکھا تھا سو جبکہ اسی زمانہ میں کروڑ ہا مخلوقات میں شق القمر کا معجزہ شیوع پا گیا مگر ان لوگوں نے مجلت زدہ ہوکر اس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے مخالفین اسلام کا چپ رہنا شق القمر کے ثبوت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے ابطال کی کیونکہ اس بات کا جواب مخالفین اسلام کے پاس کوئی نہیں کہ جس دعویٰ کا ردا نہیں ضرور لکھنا چاہیے تھا انہوں نے بقیہ ہونے کے بعد اس کا پیوند کیونکر ہو جاتا ہے۔ غرض پنڈت صاحب اپنے اس باطل اعتقاد حاشیہ سے عجب حیص بیص میں اپنے پس ماندگوں کو پھنسا گئے ہیں اور وید کے فلسفہ کا عجیب ایک نمونہ دکھا گئے ۔ اور ہم اس جگہ یہ بھی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ پنڈت دیانند صاحب کا یہ اعتقاد کہ روح جسم ہے یہ بھی سراسر غلط اور فاسد ہے روح ہر گز جسم نہیں ہے جسم قسمت کو قبول کرتا ہے اور روح قابل انقسام نہیں اور اگر یہ کہو کہ وہ جز لایتجزی ہے یعنی پر مانو (پر کرتی ) ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کئی روحوں کو باہم جوڑ کر ایک بڑا جسم طیار ہو جائے جس کو دیکھ سکیں اور ٹول سکیں کیونکہ جن لا تجری جس کو آریہ لوگ پر کرتی یا پر مانو کہتے ہیں یہی خاصیت رکھتی ہے جیسے پنڈت صاحب آپ ہی قائل ہیں کہ اجسام کثیف پر مانوں کے باہم ملنے سے طیار ہوتے ہیں مگر کیا پنڈت صاحب کا کوئی شاگر د ایسا جسم ہم کو دکھا سکتا ہے جو دو چار ہزار یا دو چار لاکھ یا کسی اور اندازہ