سُرمہ چشم آریہ — Page 101
روحانی خزائن جلد ۲ ۸۹ سرمه چشم آرید چاہتا ہے کہ جو کچھ کھلنا ہے وہ عقلی مرتبہ پر ہی کھل جائے اور نہیں جانتا کہ عقل انسانی اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ طاقت سے آگے قدم رکھ سکتی ہے اور نہ اس بات کی طرف فکر دوڑاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جو ہر عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوت بھی اس کی فطرت میں رکھی ہے سو جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے وسائل خدا شناسی انسان کی سرشت کو عطا کئے ہیں۔ ان وسائل میں سے صرف ایک ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کے وسیلہ کو استعمال میں لانا اور باقی وسائل خداشناسی سے بکلی بے خبر رہنا بڑی بھاری بدنصیبی ہے اور ان قوتوں کو ہمیشہ بریکار رکھ کر ضائع کر دینا اور ان سے فائدہ نہ اٹھانا پرلے درجہ کی بے سمجھی ہے سوایسا شخص سچا فلسفی ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو کشف اور الہام پانے کی قوت کو معطل اور بیکار چھوڑتا ہے بلکہ اس سے انکار کرتا ہے حالانکہ ہزاروں مقدسوں کی شہادت سے کشف اور الہام کا پایا جانا بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے اور تمام سچے عارف اسی طریق سے معرفت کاملہ تک بقیه جو باقی رہ گئے ہیں ان کے خیالات سے وہ سب نکل جائیں گے اور عقائد اور اعمال میں ۴۱) حاشیه پوری پوری مطابقت اپنے بڑے بھائیوں سے کر لیں گے تب وہ شیطانی اور ظلمانی دو کالے پانی دنیا کے برباد کرنے کے لئے ایک ہی ہو کر نہیں گے اور اگر آئندہ ذریت میں فلسفہ نے ترقی کی تو وہ بجائے اس کے کہ حال کے فلسفیوں کی طرح یہ سوال کریں کہ اگر ملائک یا شیاطین کچھ چیز ہیں تو ہمیں دکھلاؤ یہ اعلیٰ درجہ کے سوالات کریں گے کہ اگر خدا اور اس کی قدرتیں کچھ چیز ہیں تو ہمیں ظاہر ظاہر بلا واسطہ اسباب دکھاؤ اور اگر روحیں بعد مفارقت بدن باقی رہ جاتی ہیں اور ان کا وجود بھی کچھ چیز ہے تو وہ بھی ہمیں دکھلاؤ غرض جیسے جیسے ان نو آموزوں کے فلسفہ میں صیقل ہوتا جائے گا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ سوال ان کے دلوں میں پیدا ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ اول درجہ کے فلاسفروں سے ہاتھ جا ملائیں گے۔ ابھی تو حال کچا اور خیال بھی کچا ہے۔ منہ