سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 102

روحانی خزائن جلد ۲ ۹۰ سرمه چشم آرید ۲۲ پہنچے ہیں۔ آریہ مت والے جن کا دھرم دلی روشنی سے علاقہ نہیں رکھتا وہ کشف اور ایسے الہام سے تو قطعاً منکر ہیں جو امور غیبیہ اور خوارق اعجاز یہ پرمشتمل ہو بقول ان کے وید پیشگوئیوں سے بکلی خالی اور قدرتی نشانوں سے بکلی تہیدست ہے مگر با ایں ہمہ پھر بھی الہامی کتاب وید ہی کو مانتے ہیں۔ غرض جیسا کہ خدائے تعالیٰ کا کلام اس کی صفات کمالیہ کا آئینہ ہونا چاہئے یہ انوارالہی وید میں ثابت نہیں کر سکتے بلکہ اپنے ہی مونہہ سے اقرار کرتے ہیں کہ ان کا وید اخبار غیب اور اسرار قدرت سے بکلی عاری اور عاجز ہے لیکن ان سب خرابیوں کے ساتھ اس بات پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ الہام الہی و ید ہی پر ختم ہے وہ ہمیشہ کے کشف اور الہام سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف چار آدمیوں کو جن پر وید اترا یہ قوت الہامی بوجہ ان کے نیک اعمال کے قدرت نے عطا کی تھی مگر بعد ان کے کسی کو نہیں ملی گویاوہ چار آدمی ایک انوکھی پیدائش کے تھے جن سے باقی جمیع بنی آدم کو ان کی فطرت یا عمل کے رُو سے کچھ مناسبت نہیں سو یہ قوم روحانی اندھا ہونے پر راضی ہے ہاں آج کل عقل عقل تو پکارتے ہیں اور قانون قدرت بھی کسی کے مونہہ سے سن لیا ہے تب ہی تو لالہ مرلید ھر صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ شق القمر قانون قدرت کے برخلاف ہے مگر ہمیں لالہ صاحب موصوف کے اس تقلیدی اعتراض پر نظر کر کے بڑا ہی افسوس آتا ہے کاش انہوں نے کہیں سے یہ بھی سنا ہوتا کہ خدائے تعالی کی خدائی اور الوہیت اس کی قدرت غیر محدودہ اور اسرار نا معدودہ سے وابستہ ہے جس کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیر لینا انسان کا کام نہیں ہے خدا شناسی کے لئے یہ بڑا بھاری بنیادی مسئلہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں اس مسئلہ کی حقیقت سمجھنے اور اس پر عمیق غور کرنے سے سب الجھاؤ اور پیچ خیالات کا رفع ہو جاتا ہے اور سیدھا راہ حق شناسی اور حق پرستی کا نظر آنے لگتا ہے۔ ہم اس جگہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ خدائے تعالی ہمیشہ اپنی ازلی ابدی صفات کے موافق کام کرتا ہے اور اگر ہم دوسرے لفظوں میں انہیں ازلی ابدی صفات پر چلنے کا نام قانون الہی رکھیں تو بے جانہیں مگر ہمارا کلام اور بحث اس میں ہے کہ وہ آثار صفات ازلی ابدی یا یوں کہو کہ وہ قانون قدیم الہی محدود یا معدود کیوں مانا جائے ہاں بے شک یہ تو ہم مانتے ہیں اور مان لینا چاہیے کہ جو کچھ صفتیں جناب الہی کی ذات میں موجود ہیں انہیں صفات