سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 100

روحانی خزائن جلد ۲ ٨٨ سرمه چشم آرید کے لئے ایک عقلی قوت رکھی ہے اسی طرح انسان میں کشف اور الہام کے پانے کی بھی ایک قوت مخفی ہے جب عقل انسانی اپنی حد مقررہ تک چل کر آگے قدم رکھنے سے رہ جاتی ہے تو اس جگہ خدائے تعالیٰ اپنے صادق اور وفادار بندوں کو کمال عرفان اور یقین تک پہنچانے کی غرض سے الہام اور کشف سے دستگیری فرماتا ہے اور جو منزلیں بذریعہ مقتل طے کرنے سے رہ گئی تھیں اب وہ بذریعہ کشف اور الہام طے ہو جاتی ہیں اور سالکین مرتبہ عین الیقین بلکہ حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں یہی سنت اللہ اور عادت اللہ ہے جس کی رہنمائی کے لئے تمام پاک نبی دنیا میں آئے ہیں اور جس پر چلنے کے بغیر کوئی شخص کچی اور کامل معرفت تک نہیں پہنچا مگر کم بخت خشک فلسفی کو کچھ ایسی جلدی ہوتی ہے کہ وہ نہی بقیه نہ ہو تب تک اس کا ترک کرنا بے جا ہے مگر جو دوسرے درجہ کے فلاسفر ہیں انہوں نے حاشیہ لوگوں کے لعن طعن سے اندیشہ کر کے اپنے فلاسفری اصولوں کو کچھ نرم کر دیا ہے اور قوم کے خوف اور ہم جنسوں کی شرم سے خدا اور عالم جزا اور دوسری کئی باتوں کو ظنی طور پر تسلیم کر بیٹھے ہیں لیکن یہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفران کو سخت نالائق اور بد فہم اور غیبی الطبع اور بزدل اور اپنی سوسائٹی کے بدنام کنندہ خیال کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے فلاسفر ہونے کا دعوی تو کیا لیکن اصول فلسفہ پر جیسا کہ حق چلنے کا تھا نہیں چلے ۔ اس لئے اول درجہ کے فلاسفر اس بات سے عار رکھتے ہیں کہ ان ناقصوں کو فلاسفر کے باعزت لفظ سے مخاطب یا موسوم کیا جائے کیونکہ انہوں نے کچھ کچھ تو فلسفہ کے طریقہ پر قدم مارا اور کچھ عام لوگوں کی علامت لعنت سے ڈر کر نبیوں کے عقائد میں بھی ( جو فلسفیوں کے منشاء کے موافق قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت نہیں ہو سکتے ) ٹانگ اڑادی اس لئے یہ لوگ ان کی نظر میں نیم حکیم ہیں حقیقی فلاسفر نہیں ہاں ممکن بلکہ قرین قیاس ہے اور امید کی جاتی ہے کہ جیسے جیسے ایک سخت جوش قطعی اور یقینی اور نہایت واشگاف ثبوت عقلی طلب کرنے کا ان کے مستعد اور ہونہار لوگوں کے دلوں میں آتا جائے گا۔ ویسی ویسی وہ کسریں